بھارت میں مسلمانوں کے خلاف متعصبانہ رویے کی ایک اور مثال سامنے آ گئی۔ بھارتی فوج کی مسلمان خاتون افسر کرنل صوفیہ قریشی کے خاندان کو مودی سرکار نے زبردستی اپنے روڈ شو میں شرکت پر مجبور کیا۔
رپورٹس کے مطابق کرنل صوفیہ کی بہن نے انکشاف کیا کہ انہیں لوکل کلیکٹر آفس سے کال کر کے باضابطہ طور پر بلایا گیا تھا۔ اہل خانہ کو مودی کے روڈ شو میں پھول نچھاور کرنے پر مجبور کیا گیا تاکہ حکومت اپنی تشہیر کے مقاصد حاصل کر سکے۔
یہ عمل نہ صرف غیر اخلاقی بلکہ انتہائی توہین آمیز بھی تھا، کیونکہ اس سے پہلے بی جے پی نے کرنل صوفیہ قریشی کو صرف ان کی مذہبی شناخت کی بنیاد پر نشانہ بنایا تھا۔ سوشل میڈیا پر ان کے خلاف نفرت انگیز مہم چلائی گئی اور انہیں ایک دہشتگرد کی بہن قرار دے کر بدنام کیا گیا۔
ایک مسلمان افسر، جس نے اپنی پیشہ ورانہ خدمات سے ملک کا نام روشن کیا، اس کی حب الوطنی کو محض اس کے مذہب کی بنیاد پر مشکوک قرار دینا بی جے پی کے ہندوتوا نظریے کی عکاسی کرتا ہے۔
مودی حکومت کا یہ عمل کہ جس خاندان کو پہلے مذہبی بنیادوں پر ہدف بنایا، اسی کو اب عوامی تقریب میں “نمائش” کے طور پر پیش کرنا ایک شرمناک رویے کی واضح مثال ہے۔ یہ واقعہ بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ ہونے والے سلوک پر ایک سنگین سوالیہ نشان چھوڑتا ہے۔
Comments are closed.