بارسلونا کے علاقے سانتس میں اتوار کی صبح ایک تاریخی منطر دیکھنے کو ملا جب ہزاروں افراد نے نسل پرستی اور نفرت انگیزی کے خلاف آواز بلند کرنے کے لیے پانچ کلومیٹر کی دوڑ میں شرکت کی۔ یہ دوڑ تارکین وطن کی تنظیم “ٹوپ مانتا” کی جانب سے منعقد کی گئی، جس کا مقصد دنیا بھر میں دائیں بازو کے بڑھتے ہوئے اثرات اور نسل پرستانہ بیانیے کے خلاف اجتماعی مزاحمت کو اجاگر کرنا تھا۔
صبح 10 بجے پلاسا دے سانتس سے شروع ہونے والی اس دوڑ میں 1,500رجسٹرڈ افراد نے حصہ لیا جبکہ ٹوپ مانتا کے مطابق تقریباً 6,000 افراد بغیر رجسٹریشن کے بھی کسی نہ کسی مرحلے پر دوڑ میں شامل ہوئے۔ شرکاء اور تماشائیوں نے “فری فلسطین” “بائیکاٹ اسرائیل” اور “کوئی انسان غیر قانونی نہیں” جیسے نعرے بلند کیے۔ متعدد افراد فلسطینی پرچم، کفیہ اور سماجی انصاف کے نعروں پر مشتمل ٹی شرٹس پہن رکھی تھیں۔
دوڑ میں خواتین میں سب سے پہلے راماتوئلے کروبالی نے 19 منٹ اور 1 سیکنڈ میں منزل طے کی، جبکہ مردوں میں مارتی گوتیرز فارے نے 15 منٹ 41 سیکنڈ میں پہلا نمبر حاصل کیا۔ وینزویلا سے تعلق رکھنے والی ایک شرکاء روزانجیلا نے کہا کہ وہ اس لیے شریک ہوئیں کیونکہ وہ خود ایک مہاجر ہیں اور اُن کے نزدیک یہ ایک بہت اہم سماجی مقصد ہے۔ ان کے مطابق دوڑ کا ماحول بے حد پرجوش اور متحد کن تھا۔
ٹوپ مانتا کے ترجمان عزیز فائے نے دوڑ کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مہاجرین مسئلہ نہیں بلکہ معاشرے کا لازمی جزو ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر تارکین وطن نہ ہوں تو اسپین اور کاتالونیا کا نظام نہیں چل سکتا۔ ان کے مطابق یہ دوڑ محض ایک ایونٹ نہیں بلکہ اجتماعی مطالبہ اور نسل پرستی کے خلاف فتح ہے۔ انہوں نے سیاسی جماعتوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ دائیں بازو کی نفرت انگیز زبان ہر طرف پھیل رہی ہے اور اس کے خلاف مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔
دوڑ کے اختتام پر لا رامبلا دے سانتس پر ایک اسٹیج لگایا گیا جہاں تقاریر، موسیقی اور فن کے ذریعے سماجی پیغام کو مزید تقویت دی گئی۔ اس موقع پر کیٹالان میوزک جوڑی سوتلانا، گلوکار بوئے، بارسلونا کے موسیقی گروپ جوکّو کلیکٹیو اور نیو نے اپنے فن سے حاضری کو محظوظ کیا اور پیغام دیا کہ یہ جدوجہد ابھی جاری ہے۔
یہ دوڑ محض جسمانی مشق نہیں تھی بلکہ ایک سماجی تحریک کا آغاز تھی، جس کے ذریعے منظم انداز میں نفرت، نسلی امتیاز اور دائیں بازو کی شدت پسندی کے خلاف آواز اٹھائی گئی۔ ٹوپ مانتا کو امید ہے کہ یہ ایونٹ نہ صرف مقامی سطح پر بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی دیگر تحریکوں کے لیے ایک مثبت مثال بنے گا۔
Comments are closed.