پاکستان اور امریکہ کا دہشت گردی کے خلاف مشترکہ عزم، بی ایل اے، داعش اور ٹی ٹی پی کے خطرات سے نمٹنے پر اتفاق

پاکستان اور امریکہ کے درمیان انسداد دہشت گردی ڈائیلاگ اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس میں دونوں ممالک نے دہشت گردی کی تمام شکلوں اور مظاہر سے نمٹنے کے لیے اپنے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔ مذاکرات میں علاقائی اور عالمی سلامتی کی صورتحال، دہشت گرد گروہوں کی سرگرمیوں، اور مشترکہ سیکیورٹی تعاون پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

دہشت گرد تنظیموں کے خطرات پر غور
ترجمان کے مطابق بات چیت میں بی ایل اے (بلوچ لبریشن آرمی)، داعش (اسلامک اسٹیٹ) اور ٹی ٹی پی (تحریک طالبان پاکستان) سے لاحق خطرات پر مؤثر اور مربوط حکمت عملی کی اہمیت پر زور دیا گیا۔ دونوں فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ان گروہوں کی مالی معاونت اور نیٹ ورک کو ختم کرنے کے لیے انٹیلی جنس شیئرنگ اور مشترکہ آپریشنز کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔

پاکستان کی کامیابیوں کا اعتراف
اعلامیہ کے مطابق امریکہ نے دہشت گرد تنظیموں پر قابو پانے کے لیے پاکستان کی کامیابیوں کو سراہا۔ امریکی وفد نے پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات سے ہونے والے قیمتی انسانی جانوں کے نقصان پر تعزیت کی اور متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کیا۔

خطے میں امن و استحکام کے لیے تعاون
مذاکرات میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے نہ صرف عسکری بلکہ سماجی و اقتصادی اقدامات کی بھی ضرورت ہے۔ دونوں ممالک نے اتفاق کیا کہ انسداد دہشت گردی کے ساتھ ساتھ شدت پسندی کی جڑوں کو ختم کرنے کے لیے تعلیم، معاشی مواقع اور ترقیاتی منصوبوں پر بھی کام کیا جائے گا۔

Comments are closed.