وزیراعظم شہباز شریف نے ملک بھر میں جاری شدید مون سون بارشوں اور سیلابی صورتحال کے پیش نظر مختلف سیاسی قائدین سے رابطے کیے۔ اس موقع پر انہوں نے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری سے بات چیت کی اور جنوبی سندھ بالخصوص کراچی میں موسلادھار بارشوں، شہری سیلاب اور قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نے وفاقی حکومت کی جانب سے سندھ حکومت کو ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کی پیشکش بھی کی۔
این ڈی ایم اے کو ہدایات
وزیراعظم نے چیئرمین نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کو ہدایت دی کہ وہ سندھ حکومت سے مکمل رابطے میں رہیں اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کو ہر ممکن معاونت فراہم کریں۔ انہوں نے زور دیا کہ لوگوں کو ممکنہ خطرات سے پیشگی آگاہ کیا جائے تاکہ قیمتی جانوں کے نقصان سے بچا جا سکے۔
حافظ نعیم الرحمان سے رابطہ
وزیراعظم نے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان سے بھی ٹیلی فون پر رابطہ کیا۔ گفتگو کے دوران خیبرپختونخوا میں حالیہ بارشوں سے ہونے والے نقصانات اور جاری امدادی سرگرمیوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم نے الخدمت فاؤنڈیشن کی جانب سے بارشوں اور سیلاب کے دوران ریسکیو و امدادی کاموں میں سرگرم کردار کی تعریف بھی کی۔
خالد مقبول صدیقی سے بات چیت
وزیراعظم نے وفاقی وزیر برائے تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی سے بھی ٹیلی فونک گفتگو کی۔ اس دوران سندھ میں بارشوں اور سیلابی صورتحال کے ساتھ ساتھ متوقع بارشوں کے خدشات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم نے وفاقی حکومت کی جانب سے کسی بھی ہنگامی صورتحال میں این ڈی ایم اے اور دیگر اداروں کی بھرپور معاونت کی یقین دہانی کرائی۔
قومی سطح پر یکجہتی کی ضرورت
سیاسی قائدین سے وزیراعظم کے یہ رابطے اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے قومی یکجہتی اور مشترکہ حکمت عملی کی اشد ضرورت ہے۔
Comments are closed.