شنگھائی تعاون تنظیم میں رکنیت کے لیے 10 نئی درخواستیں، روسی صدر کی تصدیق
روس کے صدر ولادی میر پیوٹن نے کہا ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کی رکنیت کے لیے مزید 10 ممالک کی درخواستوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
چین کے شہر تیانجن میں ہونے والے ایس سی او اجلاس کے موقع پر روسی صدر نے کہا کہ تنظیم کے ساتھ تعاون کرنے والے ممالک کے لیے سب سے اہم شرط یہ ہے کہ وہ اس کے اقدار اور اصولوں کا احترام کریں، آزاد خارجہ پالیسی اپنائیں اور عالمی مسائل کے حل کے لیے مشترکہ کوششیں کریں۔
درخواستوں پر محتاط اور دوستانہ غور
پیوٹن نے زور دیا کہ ہر نئی درخواست کو انتہائی محتاط اور دوستانہ انداز میں دیکھا جائے گا تاکہ تنظیم کے بنیادی نظریات اور مقاصد کو مزید تقویت دی جا سکے۔
اجلاس کی بین الاقوامی اہمیت
روسی صدر کے مطابق یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ ایس سی او کے ایک بڑے اجلاس میں رکن ممالک کے سربراہان، مبصر ممالک کے نمائندے، ڈائیلاگ پارٹنرز اور بڑی بین الاقوامی تنظیموں کے رہنما شریک ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق یہ صورتحال اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی برادری شنگھائی تعاون تنظیم کی کثیر جہتی سرگرمیوں میں بڑھتی ہوئی دلچسپی رکھتی ہے۔
زیادہ ممالک کی دلچسپی
پیوٹن نے کہا کہ اب زیادہ سے زیادہ ممالک ایس سی او کے ساتھ کھلے اور مساوی مذاکرات چاہتے ہیں۔ فی الحال ایس سی او میں دس مکمل رکن ممالک شامل ہیں، جبکہ دو مبصر ممالک (منگولیا اور افغانستان) اور 15 مذاکراتی شراکت دار بھی تنظیم کا حصہ ہیں۔
Comments are closed.