لندن پولیس نے ایک بڑے احتجاجی مظاہرے کے دوران 425 سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا۔ یہ مظاہرہ اس تنظیم “فلسطین ایکشن” کی حمایت میں کیا گیا تھا، جسے برطانوی حکومت نے جولائی کے آغاز میں دہشت گرد تنظیم قرار دے کر پابندی عائد کر دی تھی۔
برطانوی پارلیمنٹ کے باہر احتجاج
سینکڑوں مظاہرین برطانوی پارلیمنٹ کے باہر جمع ہوئے۔ کئی شرکاء کے ہاتھوں میں پلے کارڈز تھے جن پر یہ نعرے درج تھے:
“میں نسل کشی کے خلاف ہوں، میں فلسطین ایکشن کی حمایت کرتا ہوں”۔
پولیس نے جمعے کے روز خبردار کیا تھا کہ ممنوعہ گروہ کی کھلے عام حمایت کرنے والوں کو گرفتار کیا جائے گا۔ ہفتے کی شب جاری بیان کے مطابق زیادہ تر گرفتاریاں اسی الزام پر ہوئیں۔
احتجاج کرنے والوں کا مؤقف
مظاہرے میں شریک 74 سالہ ریٹائرڈ خاتون پولی اسمتھ نے کہا:
“ہم دہشت گرد نہیں ہیں۔ فلسطین ایکشن کے وجود کا حق تسلیم کیا جانا چاہیے، پابندی ختم ہونی چاہیے۔”
ایک اور احتجاجی نائیجل، جو ری سائیکلنگ کمپنی کے ڈائریکٹر ہیں، نے کہا:
“حکومت کا یہ اقدام غلط ہے۔ احتجاج روکنے کے بجائے اسے غزہ میں جاری نسل کشی کو ختم کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔”
پولیس نے انہیں بھی گرفتار کیا، جس پر دیگر مظاہرین نے “شیم شیم” کے نعرے لگائے۔
جھڑپیں اور تشدد کے واقعات
مظاہرے کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔ پولیس کے مطابق 25 افراد پر اہلکاروں کے خلاف تشدد اور دیگر بد نظمی کے الزامات لگے۔ نائب کمشنر کلیر اسمارٹ کے مطابق پولیس اہلکاروں کو لاتوں، گھونسوں اور تھوکنے جیسے “ناقابلِ قبول” رویوں کا سامنا کرنا پڑا۔
فلسطین ایکشن پر پابندی کا پس منظر
یاد رہے کہ برطانیہ نے فلسطین ایکشن کو جولائی 2025 میں دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا۔ یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب تنظیم کے کارکنوں نے متعدد حملے کیے، جن میں شاہی فضائیہ کے اڈے پر تخریب کاری بھی شامل تھی۔ ان حملوں سے اندازاً 7 ملین پاؤنڈ کا نقصان ہوا۔
Comments are closed.