امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے قریبی اتحادی اور دائیں بازو کے سرگرم کارکن چارلی کرک، جنہیں بدھ کے روز قتل کر دیا گیا تھا، کو بعد از مرگ ملک کا سب سے بڑا شہری اعزاز “صدارتی میڈل آف فریڈم” سے نوازیں گے۔ یہ اعلان انہوں نے پینٹاگون میں 11 ستمبر کے حملوں کی یادگاری تقریب کے دوران کیا۔ ٹرمپ نے کرک کو اپنی نسل کا ’’بڑا کردار‘‘ اور ’’آزادی کا ہیرو‘‘ قرار دیا۔
پرچم سرنگوں کرنے کا حکم
چارلی کرک کے قتل کے بعد صدر ٹرمپ نے ملک بھر میں پرچم سرنگوں کرنے کا حکم دیا۔ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ٹروتھ سوشل” پر ٹرمپ نے لکھا کہ ’’عظیم امریکی محب وطن چارلی کرک کے اعزاز میں اتوار کی شام 6 بجے تک تمام امریکی پرچم سرنگوں رہیں گے۔‘‘
تقریب میں فائرنگ اور کرک کی ہلاکت
31 سالہ چارلی کرک کو یوٹا ویلی یونیورسٹی میں ایک تقریب کے دوران گولی مار کر ہلاک کیا گیا، جہاں تقریباً 3 ہزار افراد شریک تھے۔ واقعہ سالٹ لیک سٹی سے تقریباً 65 کلومیٹر جنوب میں پیش آیا۔ عینی شاہدین کے مطابق کرک کو گردن میں گولی لگی جس کے بعد وہ خون میں لت پت ہو کر گر پڑے۔ فوری طور پر طبی امداد دی گئی لیکن انہیں بچایا نہ جا سکا۔
حملہ آور کی تلاش اور تحقیقات
ایف بی آئی نے تصدیق کی ہے کہ قتل میں استعمال ہونے والا ہتھیار برآمد کر لیا گیا ہے اور مشتبہ شخص ایک کالج طالب علم ہے۔ یوٹا کی ریاستی حکام نے اعلان کیا ہے کہ وہ حملہ آور کی گرفتاری کے لیے چوبیس گھنٹے کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ حکام کے مطابق حملے کی نئی فوٹیج اور ویڈیوز بھی ان کے پاس موجود ہیں۔
یوٹا کے گورنر کا ردعمل: ’’یہ سیاسی قتل ہے‘‘
یوٹا کے گورنر نے اس واقعے کو براہِ راست سیاسی قتل قرار دیا۔ چارلی کرک نوجوانوں میں قدامت پسند خیالات کو اجاگر کرنے کے لیے نمایاں کردار ادا کرتے رہے تھے۔ انہوں نے 2012 میں “ٹرننگ پوائنٹ امریکہ” کے نام سے تنظیم قائم کی جس نے انہیں قدامت پسند نوجوانوں میں ایک مؤثر آواز بنایا۔
قدامت پسند نظریات کے ترجمان
کرک اپنی تقریری صلاحیتوں اور میڈیا پر اثرورسوخ کے باعث ریپبلکن صدر ٹرمپ کے ایک بڑے حامی کے طور پر جانے جاتے تھے۔ انہوں نے انسٹاگرام اور یوٹیوب جیسے پلیٹ فارمز پر نوجوان نسل کو ٹرمپ کی پالیسیوں کے حق میں متحرک کیا اور قدامت پسندی کے بیانیے کو فروغ دیا۔
Comments are closed.