امریکا کے معروف دائیں بازو کے کارکن چارلی کرک کی بیوہ ایریکا کرک نے اپنے شوہر کے قتل کے ملزم کو معاف کرنے کا اعلان کر دیا۔ اتوار کے روز ایریزونا میں منعقدہ ایک یادگاری تقریب میں انہوں نے مذہبی جذبات سے بھرپور تقریر کی۔ یہ تقریب ایک بھرے ہوئے اسٹیڈیم میں ہوئی جس میں 60 ہزار سے زائد افراد شریک تھے، جن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی موجود تھے۔
“میں اسے معاف کرتی ہوں کیونکہ یہی مسیح نے کیا”
ایریکا کرک نے لرزتی ہوئی آواز میں کہا:
“میرے شوہر چارلی، وہ اسی طرح کے نوجوانوں کو بچانا چاہتے تھے، جس نے ان کی جان لی۔ میں اس شخص، اس نوجوان کو معاف کرتی ہوں۔ میں اسے معاف کرتی ہوں کیونکہ یہی مسیح نے کیا اور چارلی بھی یہی کرتے۔ نفرت کا جواب نفرت نہیں ہے۔”
قتل کا پس منظر
31 سالہ چارلی کرک کو 10 ستمبر کو یوٹاہ یونیورسٹی کیمپس میں ایک عوامی مباحثے کے دوران گولی مار کر ہلاک کیا گیا۔ ان کی اچانک موت نے امریکا کی قدامت پسند برادری اور ان کے وسیع حلقہ اثر میں شدید صدمہ پیدا کیا۔
سیاسی سرگرمیاں اور اثر و رسوخ
چارلی کرک دائیں بازو کی سیاست میں ایک متحرک کارکن کے طور پر جانے جاتے تھے۔ انہوں نے اپنے لاکھوں سوشل میڈیا فالوورز، مقبول پوڈکاسٹ اور مختلف یونیورسٹیوں میں تقریروں کے ذریعے نوجوان ووٹروں کو ٹرمپ کی حمایت کے لیے متحرک کیا۔ وہ ایک قوم پرست اور مسیحی مرکزیت پر مبنی سیاسی نظریے کے پرجوش حامی تھے۔
متنازعہ بیانات اور قدامت پسند نظریہ
کرک نے قدامت پسند مسیحی اقدار کی وکالت کی لیکن اپنی تقاریر اور بیانات میں وہ اکثر اقلیتوں، بشمول ٹرانس جینڈر افراد، مسلمانوں، افریقی امریکیوں اور دیگر کمیونٹیز کے خلاف سخت اور زہریلے الفاظ استعمال کرتے تھے۔ اس وجہ سے وہ بیک وقت ایک بڑے سیاسی اثرورسوخ رکھنے والے اور ایک متنازعہ شخصیت سمجھے جاتے تھے۔
Comments are closed.