پنجاب نے گندم دینے پر پابندی لگا دی، کسانوں کا معاشی قتل ہوا: ندیم افضل چن

پیپلز پارٹی کے رہنما ندیم افضل چن نے الزام لگایا ہے کہ پنجاب حکومت نے دیگر صوبوں کو گندم دینے پر پابندی لگا دی ہے، جس کے نتیجے میں ملک کے کسان بدترین معاشی مشکلات کا شکار ہو گئے ہیں۔ لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کی شرائط کا بہانہ بنا کر کسانوں سے گندم نہیں خریدی گئی، جس کے باعث کسانوں کا معاشی قتل کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ رہی سہی کسر حالیہ سیلاب نے نکال دی جس نے کسانوں کو مزید تباہی سے دوچار کیا۔

کسانوں کے مسائل اور حکومتی پالیسیوں پر تنقید

ندیم افضل چن نے کہا کہ کسان کی محنت کا صلہ نہ دینا زیادتی ہے، یہ کسان ہی ہیں جو اپنی دن رات کی محنت سے ملک کے عوام کے لیے خوراک پیدا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسان خوشحال نہیں ہوگا تو ملک کی معیشت کبھی ترقی نہیں کر سکتی۔ ان کے مطابق کسانوں کو دانستہ طور پر حکومتی پالیسیوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

سیلاب کی تباہ کاریاں

رہنما پیپلز پارٹی نے کہا کہ ہم سیلاب پر سیاست نہیں کرنا چاہتے لیکن یہ حقیقت ہے کہ سیلاب نے کسانوں کی کمر توڑ دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کھڑی فصلیں تباہ ہوگئی ہیں اور ہزاروں ایکڑ زمین پانی میں ڈوب گئی ہے۔ اس صورتحال میں کسان کے لیے حکومت کی مدد ناگزیر ہے، لیکن بدقسمتی سے کسان کو سہارا دینے کے بجائے مزید دباؤ میں ڈالا جا رہا ہے۔

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام پر خدشات

ندیم افضل چن نے دعویٰ کیا کہ کچھ عناصر بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، حالانکہ یہ غریب اور نادار طبقے کے لیے ریلیف کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ غریبوں کی یہ آواز بند کرنے کی کوشش دراصل ملک کے کمزور طبقات کو مزید مشکلات میں دھکیلنے کے مترادف ہے۔

سیلاب سے فصلوں کو شدید نقصان

پیپلز پارٹی کے رہنما چودھری منظور نے بھی اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مشرقی اور مغربی پنجاب سیلاب سے شدید متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب سے انفراسٹرکچر اور گھروں کو نقصان کے ساتھ ساتھ سب سے زیادہ نقصان فصلوں کا ہوا ہے۔ ان کے مطابق کسان اس وقت دوہری مار سہہ رہا ہے، ایک طرف قدرتی آفت اور دوسری طرف حکومتی بے حسی۔

تجزیہ اور پس منظر

پاکستان میں زرعی شعبہ ہمیشہ سے معیشت کی ریڑھ کی ہڈی تصور کیا جاتا رہا ہے لیکن حالیہ برسوں میں کسان بدترین مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ گندم کی خریداری کے حکومتی فیصلوں پر تنازع، سیلاب کی تباہ کاریاں اور بڑھتی ہوئی مہنگائی نے کسان کے لیے حالات مزید مشکل بنا دیے ہیں۔ اگر فوری طور پر زرعی شعبے کے لیے مؤثر پالیسی نہ بنائی گئی تو نہ صرف کسان بلکہ ملک کی فوڈ سکیورٹی بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

Comments are closed.