سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کا جسٹس طارق محمود جہانگیری کو عدالتی کام سے روکنے کا حکم معطل کرتے ہوئے انہیں دوبارہ جوڈیشل ورک کی اجازت دے دی۔ یہ حکم ڈگری کے تنازع کے باعث دیا گیا تھا جس کے خلاف جسٹس طارق جہانگیری نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ عدالت عظمیٰ کے آئینی بنچ نے فریقین کو نوٹس جاری کر دیے جبکہ اٹارنی جنرل کے دفتر اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے درخواست گزار کو بھی نوٹس بھیج دیا گیا۔
ججز کے ریمارکس اور آئندہ سماعت
سماعت کے دوران جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ سپریم کورٹ پہلے ہی واضح کر چکی ہے کہ کسی جج کو عدالتی کام سے نہیں روکا جا سکتا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس 18 اکتوبر کو بلایا گیا ہے۔ جسٹس شاہد بلال نے ریمارکس دیے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات کے باوجود رٹ پٹیشن پر نمبر کیسے لگ گیا، اس نکتے پر دونوں فریقین کے وکلا تیاری کے ساتھ آئیں۔
وکلاء کی دلیلیں اور بار کونسل کا مؤقف
جسٹس جہانگیری کے وکیل منیر اے ملک نے کہا کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار ہائیکورٹ کے دو رکنی بنچ نے اپنے ہی ہائیکورٹ کے جج کو عدالتی کام سے روک دیا، جو کہ قانونی اور انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ 10 جولائی 2024 کو جسٹس جہانگیری کے خلاف رٹ دائر ہوئی لیکن ایک سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود رجسٹرار آفس کے اعتراضات ابھی تک برقرار ہیں۔ مزید کہا کہ دوسرے فریق کو سنے بغیر فیصلہ دیا گیا۔
اس موقع پر اسلام آباد بار کونسل اور ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن نے بھی کیس میں فریق بننے کی درخواستیں دائر کر رکھی ہیں۔
پس منظر اور متعلقہ مقدمات
وکیل منیر اے ملک نے مزید بتایا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں ججز ٹرانسفر کے خلاف پانچ ججوں نے سپریم کورٹ میں آئین کے آرٹیکل 184/3 کے تحت درخواست دائر کی تھی، جس پر فیصلہ ان کے خلاف آیا اور اپیل تاحال زیر التوا ہے۔ اسی دوران جسٹس طارق جہانگیری کو عدالتی کام سے روکنے کا حکم جاری کیا گیا، حالانکہ درخواست پر اعتراضات ابھی تک موجود ہیں۔
آئندہ سماعت
سپریم کورٹ کے آئینی بنچ نے کیس کی مزید سماعت کل تک ملتوی کر دی۔
Comments are closed.