پاکستان کی اسرائیلی جارحیت کی مذمت، فلوٹیلا کارکنان کی فوری رہائی کا مطالبہ

پاکستان نے اسرائیل کی جانب سے غزہ امداد لے جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا کو روکنے اور کارکنان کو گرفتار کرنے کی شدید مذمت کی ہے۔ وزارتِ خارجہ کے مطابق یہ اقدام بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

انسانی امداد پر حملہ

دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ فلوٹیلا میں 40 سے زائد سول جہاز اور 500 بین الاقوامی کارکن شامل تھے جو غزہ کے محصور عوام کے لیے خوراک اور ادویات جیسی انسانی امداد لے جا رہے تھے۔ اسرائیلی کارروائی نہ صرف بے گناہ شہریوں کی زندگیاں خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے بلکہ انسانی ہمدردی کے بنیادی اصولوں کی بھی خلاف ورزی ہے۔

فلسطینی عوام پر اثرات

پاکستانی وزارتِ خارجہ کے مطابق اسرائیل کی مسلسل جارحیت اور غیر قانونی ناکہ بندی کے باعث 20 لاکھ فلسطینی براہِ راست متاثر ہو رہے ہیں۔ انسانی امداد کو روکنا اسرائیل کی بطور قابض قوت ذمہ داریوں سے انکار ہے، جو عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

جنگ بندی اور ناکہ بندی کے خاتمے کا مطالبہ

دفتر خارجہ نے فوری اور غیر مشروط جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ غزہ کی غیر قانونی ناکہ بندی ختم کی جائے۔ اس کے ساتھ ہی پاکستان نے فلوٹیلا پر سوار تمام کارکنان اور رضاکاروں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔

فلسطین کے ساتھ یکجہتی

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ اسرائیل کو اپنی بار بار کی خلاف ورزیوں پر جوابدہ ٹھہرایا جانا چاہئے۔ پاکستان نے ایک بار پھر فلسطینی عوام سے اپنی غیر متزلزل حمایت اور یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مبنی آزاد و خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام اور القدس الشریف کو فلسطین کا دارالحکومت بنانے پر زور دیا۔

Comments are closed.