اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی نے کہا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ ملاقات میں پاک–ایران اسٹریٹجک شراکت داری پر تفصیلی اور مثبت بات چیت ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ دونوں ممالک اپنے حالات اور ضروریات کے مطابق ایک جامع اور مخصوص اسٹریٹجک فریم ورک تشکیل دیں۔
نٹیلی جینس شیئرنگ
علی لاریجانی نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان انٹیلی جینس شیئرنگ پہلے ہی باہمی تعاون کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو ایران پاکستان اور افغانستان کے درمیان مثبت کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دہشت گرد گروہ دونوں ممالک کے لیے مشترکہ چیلنج ہیں، اس لیے سرحد پار دہشت گردی کے خلاف مشترکہ، فیصلہ کن کارروائی خطے کے امن کے لیے ضروری ہے۔
ایران–پاکستان گیس پائپ لائن
لاریجانی نے دعویٰ کیا کہ ایران گیس پائپ لائن معاہدے کی اپنی ذمہ داریاں مکمل کر چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بیرونی رکاوٹیں نہ ہوتیں تو آج پاکستانی گھرانے ایرانی گیس استعمال کر رہے ہوتے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس منصوبے کے حل کی راہ جلد نکل آئے گی۔
پاکستان کی حمایت
علی لاریجانی نے کہا کہ پاکستان نے امریکا سے اچھے تعلقات رکھنے کے باوجود ایران کی حمایت کی، اور ایران اس کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔
غزہ اور علاقائی صورتحال پر مؤقف
ان کا کہنا تھا کہ غزہ میں کسی فورس میں شمولیت کے بارے میں فیصلہ مکمل طور پر پاکستان کا اپنا حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی امن فورس جیسے حل اکثر دیرپا ثابت نہیں ہوتے اور بعض اوقات مزید پیچیدگیاں پیدا کرتے ہیں۔
داعش اور دہشت گرد نیٹ ورکس
لاریجانی نے کہا کہ داعش کو مغربی ممالک نے بنایا، اور مختلف دہشت گرد گروہوں کو مختلف انٹیلی جینس ایجنسیوں کی حمایت حاصل ہے، جو خطے میں امن کے لیے مستقل خطرہ ہے۔
Comments are closed.