بھارت کے سیکرٹری دفاع نے اعتراف کیا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے آئندہ دورۂ بھارت سے غیر معمولی پیش رفت کی امید کم ہے، جس سے نئی دہلی اور ماسکو کے دفاعی تعلقات میں موجود دباؤ ایک بار پھر نمایاں ہو گیا ہے۔ پیوٹن کا یہ دورہ 4 اور 5 دسمبر کو طے ہے، تاہم حکومتی حلقوں میں اس کے نتائج کے حوالے سے محتاط سوچ پائی جاتی ہے۔
قومی سکیورٹی سمٹ میں محتاط لہجہ
بھارتی سیکرٹری دفاع شری راجیش کمار سنگھ نے قومی سکیورٹی سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ پیوٹن کے دورے کے دوران دو طرفہ تعلقات میں کسی بڑی بریک تھرو کا امکان کم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملاقاتیں اہم ضرور ہوں گی لیکن چند بنیادی معاملات میں پیش رفت مشکل دکھائی دے رہی ہے۔
دفاعی تعاون میں تاخیر
سیکرٹری دفاع نے بتایا کہ وزیر اعظم مودی اور صدر پیوٹن کی ملاقات میں دفاعی تعاون اور دفاعی ساز و سامان کی ترسیل میں تاخیر اہم موضوع ہو گا۔ انہوں نے خصوصاً S-400 میزائل سسٹمز کی مزید خریداری پر بات چیت کی تصدیق کی، تاہم پہلے سے آرڈر کردہ سسٹمز کی ترسیل میں مسلسل تاخیر کو نئی دہلی کے لیے تشویش ناک قرار دیا۔
سخوئی طیاروں کی اپ گریڈیشن
انہوں نے مزید کہا کہ روس کی جانب سے سخوئی جنگی طیاروں کی ڈیلیوری اور اپ گریڈیشن کے شیڈول میں غیر یقینی صورتحال بھارت کے دفاعی منصوبوں کو متاثر کر رہی ہے۔ اس تاخیر نے دونوں ملکوں کے عسکری تعاون پر سوالات کھڑے کیے ہیں۔
دورہ اہم مگر
بھارتی دفاعی حکام کے مطابق پیوٹن کا دورہ بلاشبہ اہم ہے، مگر دفاعی معاملات پر موجود رکاوٹوں کے باعث اسے ’غیر فیصلہ کن‘ دورہ تصور کیا جا رہا ہے۔ اب نگاہیں اس ملاقات پر ہیں کہ آیا روس بھارت کے تحفظات دور کرنے کے لیے کوئی ٹھوس یقین دہانی فراہم کرتا ہے یا نہیں۔
Comments are closed.