سری لنکا ایک طاقتور سمندری طوفان کے بعد شدید بارشوں اور مٹی کے تودوں کی لپیٹ میں آگیا، جس سے دارالحکومت کولمبو کے متعدد علاقے اتوار کے روز مکمل طور پر سیلاب میں ڈوب گئے۔ حکام نے کم از کم 193 افراد کی ہلاکت اور 228 افراد کی گمشدگی کی تصدیق کی ہے، جب کہ امدادی کارروائیاں اب بھی مسلسل جاری ہیں۔
تباہی کی اصل حد
حکام کے مطابق ملک کے وسطی حصے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں، جہاں سڑکیں ملبے اور گرے ہوئے درختوں سے بند تھیں۔ جب ریسکیو ٹیموں نے راستے دوبارہ کھولے تو بے گھر افراد، تباہ شدہ گھر اور لینڈ سلائیڈنگ کے متعدد بڑے واقعات سامنے آئے۔ ڈیزاسٹر مینجمنٹ سینٹر (ڈی ایم سی) نے صورتحال کو “بدترین قدرتی آفتوں میں سے ایک” قرار دیا ہے۔
دریائے کیلانی کی طغیانی
ڈی ایم سی کے مطابق طوفان گزر جانے کے باوجود شدید بارشیں جاری ہیں، جس سے دریائے کیلانی کی سطح خطرناک حد تک بڑھ گئی اور کولمبو کے شمالی علاقوں میں بڑے پیمانے پر سیلاب آگیا۔ حکام نے ایسے نشیبی علاقوں کے رہائشیوں کو فوری طور پر محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہونے کی ہدایت کی ہے۔
تباہی کی نئی تصویر
کولمبو کے شمال مشرق میں واقع منامپیتیا قصبے میں پانی کی سطح کم ہونا شروع ہوگئی ہے، جس سے بڑے پیمانے پر تباہ شدہ انفراسٹرکچر، ڈوبے ہوئے مکانات اور اجڑی ہوئی بستیوں کا منظر نمایاں ہو رہا ہے۔ ریسکیو اہلکاروں کے مطابق کئی دیہات مکمل طور پر سیلاب برد ہو چکے ہیں جبکہ متعدد مقامات پر امدادی رسائی اب بھی مشکل ہے۔
طوفان کا رخ
طوفان دتوا ہفتے کے روز سری لنکا سے نکل کر بھارت کے ساحلی علاقوں کی جانب بڑھ گیا، تاہم بارشوں کے اثرات ابھی تک سری لنکا میں شدید تباہی پھیلا رہے ہیں۔ حکام نے خطرے کے پیشِ نظر مزید بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے امکان کو رد نہیں کیا۔
Comments are closed.