تہران: ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور ترک وزیرِ خارجہ ہاکان فیدان کے درمیان ہونے والی اہم ملاقات میں دونوں ممالک نے دوطرفہ تعلقات کو نئی سطح تک لے جانے اور خطے میں جاری کشیدگی کے مقابل مشترکہ حکمتِ عملی اپنانے پر زور دیا۔ مذاکرات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں دونوں وزرائے خارجہ نے شام، لبنان، فلسطین اور جوہری معاملے سمیت متعدد علاقائی امور پر تفصیلی بات چیت کا انکشاف کیا۔
عدم استحکام کا خدشہ
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے خطے میں اسرائیل کے اقدامات کو ’’استحکام کے خلاف مسلسل منصوبہ بندی‘‘ قرار دیتے ہوئے سخت خبردار کیا۔ انہوں نے کہا کہ غزہ میں جنگ بندی معاہدے کی بار بار خلاف ورزیاں، اور شام و لبنان پر حالیہ حملے ثابت کرتے ہیں کہ اسرائیل پورے خطے میں ایک وسیع تر عدم استحکام کی حکمتِ عملی پر عمل کر رہا ہے۔ دونوں وزرائے خارجہ کا کہنا تھا کہ شام اور لبنان میں اسرائیلی حملوں کو روکنا فوری ضرورت بن چکا ہے۔
اقتصادی تعاون بڑھانے پر اتفاق
دوطرفہ تعلقات کے مستقبل پر بات کرتے ہوئے عراقچی نے بتایا کہ دونوں ممالک نے تجارت اور سرمایہ کاری کے راستے میں حائل رکاوٹیں ختم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ اس سلسلے میں ایران–ترکیہ سپریم کونسل برائے تعاون اور مشترکہ اقتصادی کمیٹی کے اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ باہمی اقتصادی منصوبوں کو براہِ راست اور مؤثر انداز میں آگے بڑھایا جا سکے۔
ترکیہ کا عالمی برادری سے مطالبہ
ترک وزیرِ خارجہ ہاکان فیدان نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ شام پر اسرائیلی حملوں کو روکنے اور غزہ میں جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیوں کو ختم کرانے کے لیے اپنی ذمہ داریاں نبھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے کے موجودہ حالات عالمی خاموشی برداشت نہیں کر سکتے، کیونکہ صورتحال ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید بگڑ رہی ہے۔
ایران–اسرائیل کشیدگی
یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب ایک جانب اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی بڑھ چکی ہے، تو دوسری جانب شام میں ترکیہ کے کردار پر اسرائیلی شکوک و شبہات بھی تقویت پکڑ رہے ہیں۔ دونوں وزرائے خارجہ نے اس پس منظر میں مشترکہ سفارتی اور سکیورٹی تعاون کو خطے کے استحکام کے لیے ناگزیر قرار دیا۔
Comments are closed.