کوروناکی یلغار اگرچہ تھم چکی اور کاروبارحیات ازسرنو رواں دواں ہونے کو ہے، ذرا ٹھہریئے! یہ جائزہ لیتے ہیں کہ گزشتہ پانچ ماہ کے سفاک عہد میں ہم نے کیا کھویا کیا پایا یا سیکھا۔ ان چند ماہ میں دنیا نے دیکھا کہ جدیدٹیکنالوجی کے خداؤں کے سر اس قدرتی وبا نے جھکا دیئے۔ امریکہ، چین اور یورپ جیسی بڑی طاقتیں سر دیوار سے پھوڑتی رہیں لیکن مسئلہ کی جڑپکڑ نہ پائیں۔
یہ حقیقت ایک بار پھر آشکار ہوئی کہ اس کائنات کو چلانے والی ذات سے رجوع کرنے اور دنیا کو امن وراحت کا گوارہ بنانے کی ضرورت پہلے سے زیادہ ہے۔ مالیاتی اور قدرتی وسائل پر چند ممالک یا خاندانوں کی اجارہ داری قائم کرنے کے بجائے انہیں دنیا کے باسیوں کی بہبود کے لیے مختص کیاجانا چاہیے۔ امیر اور غریب کے فرق کو کم کرنے کی ضرورت ایک بار پھر عیاں ہوئی۔بصورت دیگر اس طرح کی وبا میں مفلس طبقات کی بے احتیاطیاں اور ضرورتیں اہل ثروت کے جزیروں کو تاراج کردیتی ہیں۔
گزشتہ پانچ ماہ میں اکثر اہل خیر نے معاشرے کے پسے ہوئے طبقات کی مدد کے لیے بھرپور کردار ادا کیا۔ رفاعی اور سماجی تنظیموں نے لوگوں کی بھرپور خدمت کی۔ ان تنظیموں کے کئی ایک سرکردہ افراد کورونا کا شکار ہوئے اور جان کی بازی ہارگئے لیکن رضاکاروں کے جذبہ خدمت اور لگن میں کوئی کمی نہ آئی۔ڈاکٹروں اور طبی عملے کی ایک بڑی تعداد نے بھی اپنی بساط سے بڑھ کر شہریوں کی دیکھ بھال کی۔
یہ ہمارے معاشرے کا حسن ہے کہ لوگ مشکل کے وقت ایک دوسرے کا ہاتھ تھام لیتے ہیں۔ بانٹ کر کھانے کو ثواب سمجھتے ہیں۔ اپنے وسائل میں ضرورت مندوں کو بھی حصہ دار بناتے ہیں۔ وفاقی حکومت نے احساس سپوٹ پروگرام کے تحت بغیر کسی سفارش اور سیاست کے ضرورت مندوں کی مدد کی۔محترمہ ثانیہ نشتر نے دن رات ایک کرکے مالی امداد ضرورت مندوں کے دروازے تک پہنچائی۔
مثبت پہلوؤں کے ساتھ ساتھ یہ احساس بھی شدت سے ابھرا کہ عوام ریاست کی اتھارٹی کو خاطر میں نہیں لاتے۔ حکومت اور ڈبلیو ایچ او نے چیخ چیخ کر بتایا کہ احتیاط کریں۔ موت آپ کا تعاقب کررہی ہے۔ اکثر نے سنی ان سنی کردی۔عیدالفطر پر جو بے احتیاطی ہوئی اس کا خمیازہ پوری قوم نے بھگتا۔عید الضحی پرکمال ہی ہوگیا۔ عید کے دنوں میں راولاکوٹ، مظفرآباد، ہری پور اور راولپنڈی جانے کا موقع ملا۔ یہ احساس بھی نہیں ہوتا تھا کہ کورونا نامی وبا کا کبھی یہاں سے گزربھی ہوا ہے۔ آبادی کا لگ بھگ نصف غیر ہنر مند اور ناخواندہ ہے۔ اہل ثروت اور سرکاری حکام کو مشکلات میں دیکھ کر وہ راحت محسوس کرتے ہیں۔
گزشتہ سات دہائیوں میں شہریوں اور حکومت کے درمیان اعتماد کا رشتہ قائم کرانے میں ارباب اختیار بری طرح ناکام رہے۔ چنانچہ عالم یہ ہے کہ انتظامیہ کوئی حکم جاری کرتی ہے تو ہجوم جمع ہوکر انہیں بے بس کردیتاہے ۔رضاکارانہ بنیادوں پر ریاست کے احکامات پر عمل کرنے کا کوئی رواج یا دستور نہیں۔اوسلو میں سماجی رہنما سردار علی شاہنوا ز خان بتاتے ہیں کہ نارویجن حکومت گھروں سے نہ نکلنے کا اعلان کرتی ہے تو سڑکیں اور بازار سنسان ہوجاتے ہیں۔
ہمارے ہاں کے برعکس انتظامیہ کا حکم نہ ماننے کا تصور بھی نہیں پایاجاتا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران حکومت دہشت گردوں سے لڑنا چاہتی تھی لیکن رائے عامہ انہیں دہشت گرد یا پاکستان مخالف تسلیم کرنے کو تیار نہ تھی۔ پشاور آرمی پبلک سکول پر حملے نے رائے عامہ کو بدلا ورنہ پاکستان یہ جنگ ہار جاتا کیونکہ رائے عامہ کی مرضی کے برعکس کام کرنے والی حکومتیں غیر موثر ہوجاتی ہیں۔
یہ تلخ حقیقت بھی گزشتہ چند ماہ میں آشکارہوئی کہ انتظامیہ کے اندر شہریوں کو ساتھ لے کرچلنے کی استعداد بہت کم ہے۔سماجی تنظیموں کے ڈھانچے جو براہ راست لاکھوں لوگوں کے ساتھ رابطے میں ہوتے ہیں ان کے ساتھ انتظامیہ کا سلوک عمومی طور پر عدم تعاون کا ہوتاہے۔ علاوہ ازیں شہریوں کو انتظامیہ پر یہ اعتراض بھی رہتاہے کہ وہ عام لوگوں کے ساتھ کھڑا ہونے کے بجائے اکثراوقات طاقتور طبقات کی جیب کی گھڑی اور ہاتھ کی لاٹھی بن جاتی ہے۔
یہ حقیقت بھی ایک بارپھر آشکارہوئی کہ ملک گیر آفت آجائے یا وبا پھیل جائے تو ہماری ریاست کے پاس وافر مقدار میں مالی وسائل دستیاب ہیں اور نہ انسانی وسائل۔ہسپتالوں میں عملے کی کمی ہے۔ طبی آلات ہیں تو ان کے استعمال کیلئے درکار مہارت نہیں۔ قومی سطح کا کوئی ایک بڑا چیلنج بھی ایسا نہیں جس کا مقابلہ سول انتظامیہ نے فوج کی مدد کے بغیر کیا ہو۔
عالم یہ ہے کہ بارشوں کی بدولت کراچی پانی میں ڈوب گیا ۔ برساتی نالے کھولنے کیلئے فوج طلب کرنا پڑی۔ امن وامان کا کوئی مسئلہ پید اہوجائے تو فوج طلب کرلی جاتی۔ بسا اوقات ڈاکوؤں سے مقابلے کے لیے بھی فوج کی مدد درکا رہوتی ہے۔ اربوں کھربوں روپے ہرسال سویلین بیوروکریسی پر حکومت صرف کرتی ہے اگر ہر مسئلہ کا فوج ہی امرت دھارا ہے تو پھر ان اخراجات کا فائدہ کیا!
وزیر سائنس اور ٹیکنالوجی فواد چودھری نے سائنسی اداروں کو جھڑک جھڑک کر کچھ غیر ت دلائی تو انہوں نے چھوٹے چھوٹے طبی آلات بنانا شروع کردیئے ۔ حالت یہ ہے کہ پاکستان زراعت اور صنعت میں دنیا کے کم ٹیکنالوجی استعمال کرنے والے ممالک میں شمار ہوتاہے۔حالانکہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے بغیر کوئی ملک مسابقتی میدان میں اتر ہی نہیں سکتا۔ مقابلہ تو دور کی بات ہے جدت طرازی ، سرکاری یا غیر سرکاری شعبے میں سائنسی تحقیق اور ترقی کے لیے کوششوں کا وجود تک نہیں پایاجاتا۔
یونیورسٹیاں ڈگریاں بانٹ رہی ہیں تھوک کے حساب سے لیکن ایجادات ندارد۔ ملازمین کی پیشہ ورانہ اور انتظامی استعداد میں اضافے پر توجہ نہیں دی جاتی۔ خواتین کی اسی فیصد آبادی پیدواری نظام کا حصہ نہیں۔
کورونا کی بدولت تدریس کا شعبہ آن لائن کرنا پڑا۔ انٹر نیٹ کی بہتر سروس نہ ہونے کے باعث اور اساتذہ کے جدید طرزتدریس سے عدم شناسائی نے طلبہ وطالبات کے لیے مضحکہ خیز مسائل پیدا کیے۔ رفتہ رفتہ سمجھ آئی کہ آن لائن تدریس ایک حقیقت ہے ۔ اب زمانے میں اسی کا چلن ہوگا۔ یہ ایسا موضوع ہے جو ایک کالم میں سمٹ نہیں سکتا۔ چند ایک اہم نکات کو اس تحریر میں سمویا گیا ہے۔ خواہش ہے کہ قارئین اور بالخصوص نوجوان لکھاری ان موضوعات پر اپنے تجربات اور مشاہدات قارئین کے ساتھ شیئر کریں۔
Comments are closed.