میں نے غسان کنفانی کو سب سے پہلے الجریزہ ٹی وی کی ایک ڈاکومنٹری سے جانا تھا۔ اُس مختصر مگر جامع ڈاکومنٹری میں اِس فلسطینی حریت فکر صحافی کی ایسی منظر کشی کی گئی تھی کہ میں غسان کے سحر میں جکڑ گیا۔ وہ صحافت میں اوّل اوّل کے نشے تھے کہ کبھی واٹر گیٹ اسکینڈل اور اِس جیسی دوسری انوسٹیگیٹو کہانیوں سے جُڑی کتابیں اور فلمیں متاثر کرتیں، تو کبھی انسانی زندگی اور سماج کی پرتیں کھولتی لٹریری جرنلزم کی شاہکار تحریریں پڑھ کر سُرور ملتا ۔۔۔ ایسے میں غسان کنفانی سے متعارف ہونا بالکل ایک رُومانوی سا تجربہ تھا۔
فسلطین ۔۔۔ کرہ ارض پر بسنے والے کسی بھی شخص کا ’’شعور پیما‘‘ ہے۔ یعنی، فلسطین سے متعلق کسی کی سیاسی فکر کا زاویہ اُس کے سیاسی و تاریخی شعور اور اس کے اندر چھپی انسانیت کا پتہ دیتا ہے۔ اور میں خود کو ان خوش بختوں میں شمار کرتا ہوں جن کا (کم از کم) یہ زاویہ بالکل درست ہے۔ اس میں ہماری کوئی کاوش نہیں بلکہ یہ غسان کنفانی اور اس جیسے دیگر سرفروشوں کے لفظ، کہانیاں اور جاں سے گزر جانے کا جنوں ہے کہ فلسطین نظر انداز کیے جانے کی تمام شعوری کوششوں کے باوجود بدستور عالمی منظر نامے کی شہ سرخی بن کر ہر لمحہ اپنے ہونے کا احساس دلاتا ہے۔
ہم بچپن سے سرکاری ٹیلی ویژن پر نو بجے کے خبرنامے میں دو خبریں معمول سے سنتے چلے آ رہے ہیں۔
پہلی خبر: ’’بھارتی سیکیورٹی فورسز نے سری نگر میں فائرنگ کر کے ایک کشمیری نوجوان کو شہید کر دیا ہے۔‘‘
دوسری خبر: ’’صیہونی افواج نے مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی میں فائرنگ کر کے 2 فلسطینی نوجوانوں کو شہید کر دیا ہے۔‘‘
اور بچپن ہی سے سوچتے چلے آ رہے ہیں کہ یہ خبر ہر روز یہ خبر ایک یکسانیت کے ساتھ کیوں سنائی جاتی ہے؟ وہی مُلک، وہی شہر، وہی لفظ اور وہی وژولز۔
اس سوال کا جواب برسوں بعد غسان کنفانی کے ایک انٹرویو کے دوران ملا۔ جب اس نے اسرائیل کے خلاف مسلح جدوجہد کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ فلسطین کو خبر میں زندہ رہنا ہے۔ سب جانتے ہیں کہ فلسطین پر اسرائیلی فوجیں قابض ہیں، لیکن یہ ایک خبر کب تک زندہ رہ سکتی ہے؟ ہر روز ہمارے جنگ ہارنے کی خبر نہیں چل سکتی۔ لیکن اگر ہمیں اسے زندہ رکھنا ہے تو ہمیں جنگ جاری رکھنی ہو گی۔ اس لیے ہمیں خبر میں زندہ رہنے کے لیے بندوق اٹھانی پڑے گی، تا کہ ہم ہر روز کی خبروں کا حصہ ہوں۔
کنفانی کے یہ الفاظ پڑھ کر سمجھ آئی کہ فلسطین اور کشمیر والوں کے لیے خبر میں زندہ رہنے کے لیے لیے مرنا کتنا ضروری ہے!
غسان کنفانی کی اپنی زندگی بھی ایک ایسی ہی خبر پر آ کر ختم ہو گئی تھی۔ جب بیروت میں اسرائیلی ایجنٹوں نے اس کی گاڑی کو دھماکے سے اڑا دیا، تب وہ محض 36 برس کا تھا۔ لیکن تب تک کنفانی فلسطینیوں کے آزاد وطن کے مطالبے کو ایک نیا آہنگ بخش چکا تھا۔ اُس نے فلسطین اور فلسطینیوں کی ایسی کہانیاں لکھیں کہ جو وقت اور مقام کی قید سے آزاد ہو کر مُلکوں مُلکوں پھیل گئیں۔ اور وہ جہاں پہنچیں اپنے پڑھنے والوں کو مضطرب کرتی رہیں۔ غسان کی سب فلسطینی کہانیوں میں سے معروف ترین کہانی ’’رجال فی الشمس‘‘ ہے۔ جس کا عربی سے اردو ترجمہ ’’دھوپ میں لوگ‘‘ کے عنوان سے معروف مترجم شاہد حمید نے کیا تھا، اور جسے اب نئے رنگ ڈھنگ کے ساتھ ’’بُک کارنر جہلم‘‘ نے شائع کیا ہے۔
’’دھوپ میں لوگ‘‘ بھی دراصل ایک خبر ہے۔ 3 فلسطینیوں کی موت کی خبر۔ جسے ایک صحافی چند سطروں میں کچھ ایسے تراشے گا؛
’’غیر قانونی طریقے سے ۔۔۔ کویت داخلے کی کوشش کرنے والے ۔۔۔ 3 فلسطینی ۔۔۔ دم گھنٹے سے جاں بحق‘‘
یہ ایک خبر ہے۔ جس کے پیچھے پوری کہانی ہے۔ پورے فلسطین کی کہانی۔ غسان نے فلسطین پر صیہونی فوجوں کے قبضے اور اپنے ہی ملک میں مہاجر بن جانے والے ایسے تین فلسطینیوں کی کہانی لکھی ہے، جو مہاجر کیمپوں کے مقیم اپنے اہلخانہ کے بہتر مستقبل کے لیے کویت میں غیر قانونی داخلے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور اپنی اس مہم کے دوران وہ تپتے صحرا کے سفر میں پانی کی ایک ٹینکی میں چھپ کر سرحد پار کرنے کی پیشکش بھی قبول کر لیتے ہیں۔ کنفانی نے جس انداز سے کہانی کہی ہے، اور جیسے شاہد حمید نے اسے اردو قارئین کے لیے پیش کیا، اسے پڑھ کر ایک لمحے کو انسان اپنا آپ اس ٹینکی میں محبوس محسوس کرنے لگتا ہے۔
دھوپ میں کنفانی کے لوگوں کی کہانی پورے فلسطین کا مقدمہ پیش کرتی ہے۔ یہ کہانی ایسے چُست اور تیکھے انداز میں کہی گئی ہے کہ فلسطینی زندگی کا ایک مونتاج بن گیا ہے۔ جس میں ایک کے بعد ایک سِین پردے پر آتا، اور نکل جاتا ہے۔ یوں تیز تیز بدلتے مناظر کی اس کہانی میں کچھ بھی غیراہم اور غیر ضروری نہیں، بلکہ ایک ایک جملہ کہانی کی مُوومنٹ میں مصروف ہے۔ کہانی اپنے کرداروں کے درمیان برابر بکھری ہوئی ہے اور یوں ایک توازن کا احساس ہوتا ہے، مکالموں میں تنوع ہے، کردار ہم آہنگ ہیں، اور فلسطین میں رہنے یا چلے جانے کی ہر دو صورتوں میں موت اور قید کے دھڑکے کے باوجود کہانی زندگی پر اصرار کرتی ہے۔
’’دھوپ میں لوگ‘‘ کا تازہ ترین اردو ترجمہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب فلسطین کا مقدمہ تاریخ کے ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے، جہاں عرب ریاستیں اسرائیل سے سفارتی تعلقات کی راہیں ہموار کر کے مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کے دیرینہ اور واحد قابل عمل موقف سے پیچھے ہٹ رہی ہیں۔ ان حالات میں دنیا کو مسئلہ فلسطین کی حقیقی اساس سمجھنے میں فلسطین کی ادبی تخلیقات سب سے موثر ذریعہ ہیں۔ اور جبکہ اُردو کے قارئین کے لیے پہلے ہی سے مترجمین ان قیمتی متون کا ترجمہ کر چکے ہیں، ایسے میں ان تحریروں کو نئے لوگوں تک پہنچانے کے لیے ان کتابوں کی موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق اشاعت از حد ضروری ہے۔ یوں، بُک کارنر جہلم کی یہ کاوش انتہائی قابل تحسین ہے۔ اُمید ہے’’دُھوپ میں لوگ‘‘ کا یہ ایڈیشن فلسطین کے پیغام کو زندہ رکھنے میں معاون ثابت ہو گا۔
Comments are closed.