15 جولائی 2016ء کی رات ترک تاریخ کی اہم ترین رات ہے ۔ فوج کے ایک گروپ نے رجب طیب اردوگان کی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کی اور ملک میں آئینی و انسانی حقوق کی بحالی اور جمہوری قدروں کو استحکام بخشنے کا نعرہ لگا کر ایوان صدر اور پارلیمان کا محاصرہ کرتے ہوئے تمام ہوائی اڈے بند کردیئے ۔ گویا ترکی میں پانچواں فوجی انقلاب کامیابی کے قریب پہنچ چکا تھا۔
طیب اردگان نے عوام سے سڑکوں پر نکلنے کی اپیل کی تو پوری قوم ان کی ایک آواز پر لبیک کہا۔ترک قوم اپنی ہی فوج کے ٹینکوں کے سامنے لیٹ گئی اورجس کو موقع ملا وہ اوپر چڑھ گیا۔ ساری قوم کا ایک ہی نقطے پر متفق نظر آئی کہ فوج سرحدوں کی حفاظت کرے، حکومت عوام کے منتخب نمائندوں کا حق ہے۔۔
انقلاب کا نعرہ لگا کر استنبول کی شاہراوں پر گھومنے والے فوجیوں کو ایسی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا جس کی انہیں توقع بھی نہ تھی۔ملک آمریت کوپنجے گاڑھنے سے روکنے کی جنگ میں 194 افراد ہلاک ہوئے جن میں 94 فوجی بھی شامل تھے۔ فوج اور عوام کے درمیان 16 سے 20 گھنٹے تک جنگ جاری رہی جو بالآخر عوامی جیت پر اختتام پذیر ہوئی ۔ اس مزاحمت میں عوام نے 5 جنرلوں اور 25 کرنل بھی گرفتار کر لیے۔ترکی کے وزیر اعظم بن علی یلدرم نے 16 جون کی دوپہر کو بتایا کہ بغاوت کو کچل دیا گیا ہے ۔
اس سارے واقعہ کےبعد کچھ سوال ابھر کر سامنے آتے ہیں جن کے جواب ہمیں بھی تلاش کرنے ہی اور اگر ہم ایسا کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو ہماری بہت ساری الجھنیں سلجھ جائیں گی ۔ایک ایسی فوج جس کا اقتدار پر 90 سال تک قبضہ رہا اور اقتدار میں شمولیت کا آئینی حق بھی حاصل رہا، ترک فوج نے 1923ء میں خلافت ختم کر کے جدید ترک ریاست قائم کی اورترک نوآبادیات کو حاصل کیا۔

1960ء1971ء اور 1980ء میں آئین کو معطل کر کے مارشل لاء لگایا گیا ۔ اس بغاوت سے چند دن قبل طیب اردوگان نے اقتدار اعلیٰ میں فوج کی شراکت داری ختم اور کمانڈروں کے خلاف مقدمات درج کرانے کا قانون منظور کرایا تھا ۔ یہ فوج کی آخری کوشش تھی اقتدار میں شریک رہنے کی جو ناکام ہوئی اور اب ترکی تیزی سے ترقی شاہراہ پر دوڑ رہا ہے۔
اس سارے عمل میں جو چیز سامنے آئی وہ ترک قیادت کا کردار، عوام کے دلوں میں ان کی حقیقی محبت اور شہریوں کا اپنی سیاسی قیادت پر غیر متزلزل اعتماد۔۔ لیکن کیاکسی بھی لیڈر کو اپنے عوام کا اس درجے کا اعتمادبلاوجہ ہی حاصل ہو جاتاہے ، ہر گز نہیں۔ یہ اس وقت حاصل ہوتا ہے جب اس کے نظریاتی مخالفین بھی اس کے باکردار ہونے کی گواہی دیں اور حکومت وقت ہر فعل عوامی فلاح سے جڑا ہو۔
ترک صدر رجب طیب اردوگان کے مخالفین اگر ان پر کوئی الزام لگائے بھی ہیں تو صرف اتنا کہ وہ اسلامی بنیاد پرست ہیں ، ترکی کو اتاترک کی سوچ کے برخلاف اسلامی ریاست بنانا چاہتے ہیں اور خلافت کی بحالی کے لیے کوشاں ہیں لیکن اردوگان کے سیاسی حریفوں نے کبھی یہ نہیں کہا کہ اس نے ریاست کے وسائل پر ہاتھ صاف کیے ہیں۔مالی کرپشن کیساتھ وہ اخلاقی کرپشن کے الزامات سے بھی تاحال پاک ہیں، کبھی ایسی تصویر تک شائع نہیں ہوئی جس میں کوئی غیر محرم خاتون طیب اردوگان کی شیروانی یا واسکٹ کا بٹن باندھ رہی ہو۔
طیب اردوگان نے 2002 میں حکومت سنبھالی تو اس وقت سے ترکی کی جی ڈی پی میں 64 فیصد اور اقتصادی ترقی کی شرح میں 43 فیصد اضافہ ہوا۔ اس وقت ملک آئی ایم ایف کا 23.5 بلین ڈالر کا مقروض تھااور اب رواں سال ترک صدر طیب اردوگان نے اعلان کیاکہ اگر آئی ایم ایف کو قرض درکار ہو تو وہ ترکی سے رجوع کر سکتا ہے۔
2001 میں ترکی کے زرمبادلہ کے ذخائر تاریخ کی پست ترین سطح 16.5 ارب ڈالر تھے اور 2013 میں بلندترین سطح 11 ارب ڈالر ہو چکے تھے ۔صرف ایک سال میں ہی مہنگائی میں 23 فیصد کمی ہوئی۔ 2002 میں26 ہوائی اڈے 50 ہو چکے ، 2002 سے 2011 تک 13500کلومیٹر ایکسپریس وے تیز رفتار ٹرین کے لیے 1076 کلومیٹر نیا ریلوے ٹریک کیساتھ 5449 کلومیٹر پرانے ٹریک کی مرمت کی گئی۔

گرین کارڈ کے ذریعے عوام کو مفت علاج کی سہولت فراہم کی گئی اور تعلیم کا بجٹ جو 2002 میں 7.5 بلین لیرا تھا 2011 میں 34 بلین لیرا تک پہنچا دیاگیا۔2002 میں ترکی میں جامعات کی تعداد 86 تھیں تو آئندہ 10 دس میں مزید 100 نئی یونیورسٹیاں بنائی گئیں۔ کرنسی کی بات کریں تو ایک ڈالر، 222 لیرا کاتھا اور آج ایک ڈالر 2.94 لیرا کا ہے۔۔
یہ اعداد و شمار خود ساری کہانی بیان کر رہے ہیں کہ ترک عوام اپنی جمہوری اور سیاسی حکومت کے لیے کیوں ڈھال بن گئے ؟پاکستان کے سیاست بھی غیر جمہوری قوتوں کا راستہ ہمیشہ کے لیے روکنا چاہتے ہیں تو انہیں بھی ایسے ہی باکمال ہونا پڑے گا۔۔ ترک صدر نے ان کے لیے راستے کا تعین کر دیا ہے ۔صرف نیا بیانیہ ہی نہیں ،پاکستانی رہنماوں کوکچھ نیا بھی کرنا ہوگا۔
بڑھاپے میں نظریاتی نہ بنیں بلکہ سیاست کا آغاز ہی نظریات پر کریں ۔ پاکستان کے حکمرانوں کے کام دیکھ کر اپنی قسمت پر رونے کے سوا اور کچھ نہیں ہو سکتا۔ اپوزیشن کی ساری اچھی باتیں اور قوم کا غم اس وقت تک ہی برقرار رہتا ہے جب تک وہ ا قتدار میں نہیں آ جاتے ، اقتدار میں آتے ہی ترجیحات یکسر بدل جاتی ہیں اور عوام منہ دیکھتے رہ جاتے ہیں۔
فوج انتخابات میں مداخلت بند کرے یہ بیانیہ بالکل درست ہے فوج کا یہ کام ہر گز نہیں کہ وہ لیڈر تراشے لیکن ماضی میں جو لوگ اسی نرسری میں تیار ہوئے کیا انہوں نے قوم سے معافی مانگی؟مریم بی بی یہ وعدہ صرف بلاول بھٹو زرداری سے ہی نہیں پوری قوم سے کریں کہ آپس میں سیاسی مخالفت ہو گی دشمنی نہیں ۔ ان جھگڑوں کی وجہ سے آپ کے بڑوں کو ان کا سہارا لینا پڑتا رہا جن سے آج آپ کو شکایت ہے۔ انہی سہاروں کی وجہ سے ملک کو حقیقی قیادت ملی نہ جمہوریت مضبوط ہو سکی۔

ہر دور کا سلیکٹڈ لیڈر کچھ عرصے بعد خود کو حقیقی لیڈر اور دوسروں کو سلیکٹڈ سمجھنے لگتا ہے ۔ضیا ء الحق کے مارشل لاء پر مٹھائیں تقسیم ہوئیں اور بھٹو کو پھانسی لگوا کر سب الگ ہو گئے ۔ ضیاء الحق کے غیر جماعتی انتخابات کے نتیجے میں قائم ہونے والی جونیجو حکومت سے نواز شریف کے دوسرے دور تک اپوزیشن نے کسی بھی حکومت کو تسلیم نہیں کیا ۔بلاآخر پرویز مشرف کا چوتھا مارشل لاء لگا اور اس وقت بھی مٹھائیں تقسیم ہوئیں ۔
واقفان حال کے مطابق ملک میں ا س وقت تک ایسی کوئی سوچ نہیں کہ نظام اور سیاست کاروں کو کچھ عرصہ آرام کا موقع دیا جائے ، لیکن اگر اپوزیشن نے نیا بیانیہ دینے والوں کی باتوں پر ایسا ماحول بنا لیا تو یاد رہے کہ پاکستان کے عوام ٹینکوں کے سامنے لیٹیں گے نا اوپر چڑھیں گے۔جمہوری جدوجہد جاری رکھیں لیکن طیب اردوگان اور مہاتر محمد جیسی کچھ خصوصیات تو اپنے اندر پید اکریں، پھر قوم راولپنڈی سے اسلام آباد آنے والے ٹینکوں کو روک دے گی ، بصورت اب کی بار تو شائد مٹھائی کی دکانیں بھی خالی ہوجائیں۔
Comments are closed.