پاکستانی انجینئرنگ مصنوعات افریقی ممالک میں جانا شروع ہو گئی ہیں، مشیر تجارت

اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داؤد کا کہنا ہے کہ پاکستان کی انجینئرنگ مصنوعات افریقی ممالک میں جانا شروع ہو گئی ہیں جوایک اچھی علامت ہے، انگولا کو پانچ ہزار ٹریکٹرز کی فراہمی کا معاہدہ ہو گیا ہے یورپ کو بھی ہوم اپلائنسز برآمد کریں گے۔

سینیٹر مرزا محمد آفریدی کی زیرصدارت سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے تجارت و ٹیکسٹائل کے اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے مشیر تجارت کا کہنا تھا کہ پاکستان کی انجینئرنگ مصنوعات افریقی ممالک میں جارہی ہیں جو خوش آئںد ہے 10 ہزار واٹر ڈسپنسر یورپ کو برامد ہوں گے۔ یورپ پاکستانی مصنوعات خریدنا شروع ہو گیا ہے جو خوش آئندہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نومبر میں چین میں ہونے والی نمائش میں پاکستانی انجینئرنگ کمپنیوں کا بڑا وفد شرکت کرے گا، ہماری ٹیکسٹائل برآمدات میں اضافے کا رجحان ہے یارن کی برآمد میں 18 فیصد اور گرے کلاتھ کی برآمدات 22 فیصد کمی ہوئی ہے۔

عبد الرزاق داؤد کا کہنا تھا کہ چین کو ایک ارب ڈالر کی درآمدات میں چاول اور چینی کا ہدف حاصل ہو گیا تاہم یارن کا ہدف حاصل نہیں ہوا۔ مقامی سطح پر یارن کی قیمت زیادہ ہونے کی وجہ سے برآمد کا ہدف حاصل نہیں ہو سکا۔

اجلاس میں درآمدی خام مال پر صوبائی حکومتوں کی طرف سے انفراسٹرکچر سیس کی وصولی پر مشیر تجارت کاکہنا تھا کہ ٹیکس ختم کرنے کی ضرورت ہے، اس معاملے پر وزیراعظم سے بات کرنا پڑے گی۔ وزیراعظم کو صوبائی وزرائے اعلی کا اجلاس بلانے کی سفارش کی جائے گی۔ برآمدات میں استعمال ہونے والے خام مال پر ٹیکس نہیں ہونا چاہئے۔

چیئرمین کمیٹی سینیٹر مرزا محمد آفریدی نے سفارش کی کہ مشیر تجارت ایکسل لوڈ پر اجلاس بلائیں اور معاملے کا حل نکالیں، اجلاس میں سینیٹر نصیب اللہ بازئی نے ٹریڈ آرگنائزیشن ترمیمی بل 2019 واپس لے لیا ۔

Comments are closed.