اسلام آباد: ملتانی سوہن حلوہ، پشاوری چپل اور باسمتی چاول جیسی پاکستانی مصنوعات کو دنیا بھر میں متعارف کرانے کے لیے جغرافیائی قانون تیار کرلیا گیا ہے۔ اراکین سینیٹ نے نسوار، اتنڑ اور خٹک رقص کو پاکستانی برانڈز میں شامل کرنے کی تجویز دے دی۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس سینیٹر مرزا محمد آفریدی کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاوس اسلام آباد میں ہوا، جس میں چیئرمین آئی پی او مجیب احمد خان نے بتایا کہ جغرافیائی قانون میں 80 قومی، علاقائی مصنوعات فہرست تیار کی، کے پی کے حکومت نے خٹک ڈانس کو بھی پاکستانی برانڈز کی لسٹ میں رجسٹرڈ کرنے کی درخواست کی ہے۔
سینیٹر شبلی فرازنے کہا کہ اتنڑ پختون قوم کی تاریخ اور ثقافت کا حصہ ہے اسے پاکستانی برانڈز کی فہرست میں شامل کیا جائے اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے سوال کیا کہ کیا نسوار کو بھی اس لسٹ میں شامل کیا گیا ہے؟ اگر نہیں تو اسے بھی لسٹ میں شامل کیا جائے ۔ اس تجویز پر کمیٹی روم قہقہوں سے گونج اٹھا۔
جیو گرافیکل انڈی کیشن لاءایک مخصوص علاقے کی مصنوعات کو تحفظ دیتا ہے، 112ممالک کے پاس یہ قانون موجود ہے، جو ملک اپنی مصنوعات کا خود تحفظ نہیں کرتا تو کوئی دوسرا ملک بھی اس کی مصنوعات کا تحفظ نہیں کرتا، جیو گرافیکل انڈی کیشن لاء میڈ ان پاکستان مصنوعات کو پروموٹ کرے گا۔
بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ اس وقت 80 مصنوعات نان انڈی کیٹو ہیں، اب دنیا کو معلوم ہو جائے گا کہ باسمتی پاکستان کی پراڈکٹ ہے، یورپ سمیت دنیا کے مختلف علاقوں میں بھارت ہمارے باسمتی چاول کو اپنے نام سے نہیں بیچ پائے گا۔
Comments are closed.