پاکستان کی بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو مالی امداد کیلئے درخواست

اسلام آباد: کورونا وائرس کے باعث خراب معاشی حالات کے پیش نظر پاکستان نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو مالی امداد کیلئے باقاعدہ درخواست دے دی۔

ایم ڈی آئی ایم ایف ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کی ٹیم پاکستان کی طرف سے دی جانے والی امداد کی درخواست کے جواب میں تیزی سے کام کر رہی ہے تاکہ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کے ذریعہ جلد سے جلد کسی تجویز پرغور کیا جاسکے۔

ایم ڈی آئی ایم ایف ڈائریکٹر نے کہا ہے کہ عالمی وباء کے باعث پیدا ہونے والی صورت حال میں حکومت پاکستان نے عوام اور معیشت کو فوری اور مناسب ریلیف کو یقینی بنانے کے لئے آئی ایم ایف سے مالی اعانت کی درخواست کی ہے، ہنگامی مالی اعانت پاکستان کو ادائیگیوں کی ضروریات اور اعانت کی پالیسیوں کے اضافی اور فوری توازن کو حل کرنے میں مدد فراہم کرے گی۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کرسٹالینا جورجیوا کا کہنا تھا کہ اس سے معاشرتی تحفظ ، روزانہ اجرت کمانے والے اور صحت کی دیکھ بھال کے نظام سمیت پاکستان کے سب سے زیادہ متاثرہ شعبوں میں تیزی سے فنڈز کی فراہمی ممکن ہوجائے گی۔

پاکستان کی جانب سے ایکسٹنڈد فنڈ فسیلٹی پروگرام (ای ایف ایف) کے تحت آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ اصلاحات پاکستان کی اقتصادی ترقی کیلئے ناگزیر ہیں، جس سے تمام پاکستانیوں بالخصوص پسماندہ ترین طبقے کو سب سے زیادہ فائد ہوگا، آئی ایم ایف مستحکم اور پائیدار ترقی کو فروغ دینے کے مقصد سے معاشی اور ساختی اصلاحات کی بہتری کے لئے کوششوں کی حمایت کرنے کے لئے تیار ہے۔

ایم ڈی آئی ایم ایف نے مزید کہا کہ حکام نے پاکستان کے معاشی چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے اپنی اصلاحی کوششیں جاری رکھی ہیں لیکن کورونا وائرس کے پھیلنے کے تباہ کن اثرات اور عالمی معاشی و مالی حالات میں بگاڑ کی وجہ سے شدید خطرہ ہے۔ وزیراعظم عمران خان اور ان کی حکومت نے فوری طور پر معاشی محرک پیکج کی منظوری دے دی ہے جس کا مقصد وائرس کو پھیلانا اور متاثرہ خاندانوں اور کاروبار کو مدد فراہم کرنا ہے۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی مینجنگ ڈائریکٹر نے مزید کہا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے پالیسیوں کی شرح کو کم کرنے، قرضوں کے بہاؤ کی معاونت کرنے کیلئے نئی ری فنانسنگ سہولیات اور عارضی ریگولیٹری امدادی اقدامات سمیت دیگر بروقت امدادی اقدامات اٹھائے ہیں۔

Comments are closed.