دوحا: افغانستان امن مذاکرات کے اہم دور میں شرکت کے لیے طالبان سیاسی وفد کے سربراہ ملاعبدالغنی برادر قطر پہنچ گئے۔ جہاں وہ امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد کے ساتھ گزشتہ ماہ طے پائے گئےنکات کا جائزہ لیں گے۔ طالبان اور امریکا کے درمیان مذاکراتی عمل کا یہ دور 6 روز تک جاری رہے گا۔
طالبان رہنما اکبر آغا نے بی بی سی کو ملا عبد الغنی برادر کے دوحہ پہنچنے کی تصدیق کرتے ہوئے افغان امن مذاکرات کے طے پا جانے کی امید کا اظہار کیا ہے۔ ملا عبد الغنی برادر قطر میں طالبان کے سیاسی دفتر کے سربراہ بھی ہیں۔ دیگر طالبان رہنماؤں کی بھی جلد قطر پہنچنے کی امید ہے۔
فریقین کے درمیان مذاکرات کا آخری دور گزشتہ ماہ ہوا تھا جس میں دونوں جانب سے خاطر خواہ پیشرفت کا عندیہ دیا گیا تھا تاہم امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے کچھ معاملات کے حل طلب ہونے کا کہہ کر حتمی معاہدہ طے پانے کے لیے ایک اور مذاکراتی دور کا اشارہ دیا تھا۔
گزشتہ ماہ ہونے والے مذاکرات میں غیرملکی فوج کے افغانستان سے 18 ماہ کے اندر انخلاء،طالبان رہنماؤن کو بلیک لسٹ سے نکالنے،سفری پابندیاں ختم کرنے اورقیدیوں کےتبادلے کےبدلے میں طالبان کی افغانستان میں داعش یا القاعدہ کو پناہ نہ دینے کی ضمانت دینے پراتفاق کیا گیا تھا۔
Comments are closed.