جمال خاشقجی کا قتل سوچی سمجھی سازش تھا، ترک صدر

مانیٹرنگ ڈیسک

استنبول: صدر رجب طیب اردگان نے ترک پارلیمنٹ کو بتایا کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی دو اکتوبر کو سعودی قونصل خانے گئے تھے جب کہ یکم اکتوبر کو تین الگ الگ پروازوں سے 15 مشکوک افراد ریاض سے استنبول پہنچے تھے جن کی منزل سعودی قونصل خانہ تھی۔ ان ہائی پروفائل 15 افراد نے قونصل خانے کے 3 حکام کے ساتھ مل کر صحافی کو قتل کیا۔

یکم اکتوبرکی رات کو سعودی قونصل خانے میں نصب سیکیورٹی کیمرے ہٹادیئے گئے تھے جب کہ صحافی کی گمشدگی کی اطلاع کے بعد قونصل خانے کے معائنے میں پس و پیش سے کام لیا گیا اور تین دن تک تفتیشی حکام کو داخل ہونے نہیں دیا گیا۔

ترک صدر کا کہنا تھا کہ لاش کے حوالے سے متضاد بیانات آرہے ہیں۔ سعودی عرب صحافی کی لاش سے متعلق جواب دے۔ اطلاع ہے کہ خاشقجی کی لاش ٹھکانے لگانے کے لیے ایک مقامی شخص کے حوالے کی گئی تھی۔ سعودیہ اس شخص کی معلومات فراہم کرے۔

طیب اردگان کا کہنا تھا کہ ریاض سے آنے والے 15 افراد نے قریبی جنگل ایلوا کا دورہ بھی کیا تھا اور خدشہ ہے کہ انہی لوگوں نے صحافی کی لاش کو مقامی شخص کی مدد سے جنگل میں چھپادیا ہو۔ تحقیقاتی اداروں نے لاش کی تلاش جاری رکھی ہوئی ہے۔

ترک صدر طیب اردگان نے کہا کہ متعدد ٹال مٹول کے بعد سعودی عرب صحافی کے قتل کا اعتراف کرچکا ہے لیکن اب تک ہمارے سوالوں کے جوابات نہیں دیے گئے،سعودی عرب سےمطالبہ کرتے ہیں کہ وہ قتل میں ملوث افراد کو بھی بے نقاب کرے۔

ترکی کے صدر کا کہنا تھا کہ ویانا کنونشن کے تحت قونصل خانے کو حاصل استثنیٰ کے باعث تحقیقات میں مشکل پیش آئیں تاہم عالمی قوانین ایسے سنگین جرم کی اجازت نہیں دیتے۔ عالمی قوانین کا احترام کرتے ہوئے اپنے آئین کے تحت تفتیش کی جائے گی۔

اردگان نے کہا کہ صحافی کا قتل ترکی کی سرزمین پر ہوا اس لیے تحقیقات بھی ترکی کے آئین کے مطابق ہوں گی۔ لاش ملنے تک تفتیشی عمل جاری رکھیں گے اور قتل کے ذمہ داروں کو قانون کے شکنجے میں لائیں گے۔

طیب اردگان نے کہا کہ شاہ سلمان کی نیت پر شک نہیں ہے لیکن صحافی کے قتل کو حادثہ قرار دینے کا دعویٰ قابل قبول نہیں ہے۔ ترکی کو مکمل حقائق جاننے کا حق حاصل ہے۔

ترکی کے صدر نے کہا کہ جمال خاشقجی کے لیے دعائے مغفرت کرتا ہوں اور اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کرتا ہوں۔ مجھے ان کے ساتھ مکمل ہمدری ہے اور یقین دلاتا ہوں کہ جو بھی قتل میں ملوث ہے اسے قانون کے دائرے میں لایا جائے گا۔

جمال خاشقجی سعودی نژاد صحافی ہیں اور واشنگٹن پوسٹ کے لیے کالم لکھتے ہیں۔ انہیں شاہی خاندان اور سعودی فرماں روا کے سخت ناقد کے طور پر جانا جاتا ہے۔اور اسی وجہ سے انہیں اپنا آبائی وطن چھوڑ کر جلاوطنی کی زندگی گزارنی پڑی تھی۔

Comments are closed.