امریکا 2019 کے اختتام تک افغانستان سے فوجیں نکالے، طالبان

دوحا: افغانستان میں قیام امن کے لیے افغان طالبان اور امریکا کے درمیان 11 روز سے جاری مذاکرات میں دو روز کے وقفے  کے بعد اتوار کو دوبارہ شروع ہوں گے۔

افغانستان میں امن بحالی کیلئے مذاکرات کا پانچواں دور 25 فروری سے قطر کے شہر دوحا میں میں جاری تھا۔ بات چیت کے سابقہ ادوار نمایاں پیشرفت حاصل ہوئی ہے۔

فریقین نے امن معاہدہ کے مسودہ کیلئے فریم ورک پر اتفاق کا اظہار کیا ہے جس میں امریکی فوجیوں کی واپسی اور طالبان کی جانب سے مستقبل میں افغان سرزمین کو بین الاقوامی دہشت گرد گروپوں کو استعمال نہ کرنے دینے کا وعدہ شامل ہے۔

طالبان کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکا کے ساتھ جاری حالیہ بات چیت کا محور بیرونی فوجوں کا انخلا اور افغانستان کو دوسروں کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہ دینا ہے۔

بیان کے مطابق‘‘ ان دو امور پر جامع مذاکرات جاری ہے، باقی معاملات جو کہ اندرونی نوعیت کے ہیں اور جن کا امریکا سے کوئی تعلق نہیں ان پر ابھی بات چیت نہیں ہوئی’’۔

خبررساں ادارے الجزیرہ کے مطابق مذاکرات کے دوران امریکا نے اپنی فوج کی مرحلہ وار واپسی کی تجویز دی تاہم طالبان نمائندوں کا کہنا ہے کہ وہ چاہتے ہیں امریکی فوج 2019 کے اختتام تک افغانستان سے چلی جائے۔ افغانستان میں اس وقت تقریباً 14 ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں

تاہم امریکی حکام کی جانب سے مذاکرات کے حالیہ دور سے متعلق کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔

Comments are closed.