بارسلونا۔ سپین کے صوبہ کاتالونیا کے قائم مقام نائب صدر پیری اراگونس پریس کانفرنس کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ 9 مئی سے جب مرکزی حکومت لاک ڈاون ختم کردے گی تو کاتالونیا میں بھی رات کا کرفیو ختم کردیاجائے گا۔ اس کے ساتھ نقل و حرکت پر عائد پابندیاں بھی ختم کردی جائیں جس کے بعد صوبے میں داخلے اور باہر جانے پر عائد پابندی بھی ختم ہو جائے گی۔
نائب صدر نے کہاکہ موذی وباء پر قابو پانے کے لئے پابندیاں ناگزیر تھیں۔ انھی قربانیوں کے باعث ہی کورونا وباء پر قابو پایا جاسکا لیکن ابھی بھ وائرس مکمل ختم نہیں ہوا ہمیں حفاظ صحت کے اصولوں کے تحت ہی زندگی گزارنا ہوگی۔حکومت نے ملک گیر لاک ڈاون کے خاتمے کے بعد پابندیوں کو لاگو کرنےکے حوالے سے قانون سازی کے منصوبے کو فی الحال ترک کردیاہے۔انھوں نے امید ظاہر کی کہ جولائی تک 70 فیصد آبادی کو ویکسین لگا دی جائے گی۔رواں ہفتے 60 سال سے زائد عمر کے 80 فیصد افراد کو ویکسین لگانے کا عمل مکمل ہوجائے گا۔
کاتالونیا میں چھ مہینے کے بعد رات کے کرفیو کے خاتمے کا اعلان کیاجارہاہے۔کرفیو کے علاوہ دیگر پابندیاں برقرار رہیں گی۔زیادہ سے زیادہ چھ افراد ہی اکٹھے ہوسکیں گے۔باریں ریسٹورنٹس بغیر کسی وقفے کے رات 11 بجے تک کھولنے کی اجازت ہوگی
Comments are closed.