بیجنگ: دوسر ے بین الاقوامی انسداد دہشت گردی سمپوزیم کا بیجنگ میں انعقاد کیا گیا۔ نئے خطرات اور نئے چیلنجوں جیسے کہ دہشت گرد قوتوں کی طرف سے نئی ٹیکنالوجیز کا استعمال، دہشت گردی کی سرگرمیوں کے لیے سائبراسپیس کا استعمال زیادہ خفیہ اور وسیع تر ہو رہا ہے اور دہشت گردی اور منظم جرائم کے درمیان گہرا تعلق پایا جاتا ہے، بہت سے چینی اور غیر ملکی شرکا ئے اجلاس نے تجویز پیش کی کہ بین الاقوامی تعاون کو مضبوط کیا جانا چاہئے اور انسداد دہشت گردی کی جڑ کو اکھاڑنا چاہئے۔
دوسرے بین الاقوامی انسداد دہشت گردی سمپوزیم میں چین کے معاون وزیر خارجہ وو جیانگ ہاؤ نے کہا کہ دہشت گردی کے لامتناہی خطرات کا سامنا کرتے ہوئے ہمیں ایک مشترکہ، جامع تعاون پر مبنی پائیدار عالمی سلامتی کے تصور پر قائم رہنا چاہیے، بین الاقوامی انسداد دہشت گردی کے مذاکرات کو مسلسل مضبوط کرنا چاہیے، ہاتھ ملا کر دہشت گردی کے نئے خطرات اور چیلنجوں کا جواب دینا چاہیے۔
مصر کے انسداد دہشت گردی کے تجربے کو شیئر کرتے ہوئے، مصری وزارت خارجہ کے بین الاقوامی انسداد دہشت گردی کے دفتر کے ڈائریکٹر محمد احمد نے نشاندہی کی کہ مصری حکومت نے دہشت گردی سے نمٹنے اور اس کے خاتمے کے لیے اقتصادی اور سماجی اقدامات سمیت سلسلہ وار کاروائیاں اختیار کی ہیں. ان کا خیال ہے کہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے صرف فوجی طاقت پرانحصار نہیں کیا جا سکتا بلکہ جامع اقدامات کی ضرورت ہے۔
Comments are closed.