چین کی امریکہ کی جانب سے چینی اہلکاروں اور اداروں پر پابندیوں کی شدید مخالفت

بیجنگ: چینی وزارت خارجہ کے ترجمان وانگ وین بین نے میڈیا بریفنگ میں کہا کہ امریکہ نے ایک مرتبہ پھر سنکیانگ میں نام نہاد انسانی حقوق کی آڑ میں متعلقہ چینی اہلکاروں اور اداروں پر “جھوٹی اور غلط معلومات” کی بنیاد پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

یہ اقدام چین کے داخلی امور میں سنگین مداخلت ہے اور بنیادی بین الاقوامی تعلقات کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ایسے رویے چین امریکہ تعلقات کے لیے بھی شدید نقصان دہ ہیں۔ چین اس کی سختی سے مخالفت کرتا ہے اور اس کی شدید مذمت کرتا ہے۔

ترجمان نے نشاندہی کی کہ امریکہ کی نام نہاد پابندیوں نے چین پر قابو پانے کے مذموم امریکی عزائم کو پوری طرح بے نقاب کر دیا ہے اور  امریکہ کی جھوٹی جمہوریت ، حقیقی طاقت، جھوٹے انسانی حقوق اور بالادست رویوں کی منافقانہ نوعیت کو بالکل عیاں کر دیا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ ہم امریکہ پر واضح کر دیتے ہیں کہ چین کا قومی خودمختاری اور سلامتی و ترقیاتی مفادات کے دفاع کا عزم غیر متزلزل ہے۔چین کا متشدد عناصر، دہشت گردوں، علیحدگی پسندوں اور مذہبی انتہا پسند قوتوں کے خلاف لڑنے کا عزم غیر متزلزل ہے اور چین امور سنکیانگ سمیت اپنے داخلی امور میں مداخلت کرنے والی بیرونی طاقتوں کی بھرپور مخالفت کے لیے پرعزم ہے۔

ہم امریکہ پر زور دیتے ہیں کہ وہ مذکورہ اقدامات کو فوری طور پر واپس لےاور چین کے اندرونی معاملات میں مداخلت اور چین کے مفادات کو نقصان پہنچانے کی غلط کارروائیاں ترک کرے۔

Comments are closed.