چین کی  امریکہ اور تائیوان کے درمیان رابطوں کی شدید مخالفت

بیجنگ: مریکہ میں چین کے سفارت خانے کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ چین نے  اقوام متحدہ کی سرگرمیوں میں تائیوان کی شرکت کے حوالے سے  امریکہ اور تائیوان کے نمائندوں کے اعلیٰ سطحی مذاکراتی اجلاس کے انعقاد کی سختی سے مخالفت  کی ہے اور امریکہ سے شدید احتجاج کیا گیا ہے ۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ خود مختار ممالک پر مشتمل ایک بین الحکومتی عالمی تنظیم ہے ۔جنرل اسمبلی کی 1971 میں منظور کردہ قرارداد  2758 نے سیاسی، قانونی اور انتظامی طور پر اقوام متحدہ میں عوامی جمہوریہ چین کی نمائندگی کے مسئلے کو مکمل طور پر حل کر دیا ہے۔امریکہ سمیت اقوام متحدہ  کے  سبھی ارکان یہ  تسلیم کرتے ہیں کہ دنیا میں صرف ایک چین ہے اور تائیوان چینی سرزمین کا ایک اٹوٹ حصہ ہے۔ بین الاقوامی تنظیم کی سرگرمیوں میں تائیوان  علاقے کی شرکت کو ایک چین کے اصول کے مطابق حل کیا جانا چاہیے۔

چین نے امریکہ پر زور دیا کہ وہ  ایک چین کےاصول اور چین۔امریکہ  تین مشترکہ اعلامیوں ، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی مذکورہ قرارداد  کی پاسداری کرے، تائیوان کے ساتھ سرکاری روابط بند کرے، غیر ذمہ دارانہ بیانات کا سلسلہ ترک کرے ، کسی بھی صورت میں “تائیوان کی علیحدگی پسند ” قوتوں کو غلط  اشارے نہ دے  اورچین۔امریکہ تعلقات اور آبنائے تائیوان کے امن و استحکام  کو نقصان پہنچانے والی سرگرمیوں سے باز رہے۔

Comments are closed.