شنگھائی :پاکستان میں چینی سفارتخانے کے اکنامک اینڈ کمرشل قونصلر شے گوشیانگ نے چائنا میڈیا گروپ کو ایک خصوصی انٹرویو میں کہا، “پاکستانی کمپنیاں چین کی بڑی درآمدی منڈی کو بہت زیادہ اہمیت دیتی ہیں۔ چوتھی چائنا انٹرنیشنل امپورٹ ایکسپو نے انہیں ایک نادر موقع فراہم کیا ہے۔ وہ یہ بھی امید کرتے ہیں کہ چائنا انٹرنیشنل امپورٹ ایکسپوکے ذریعے اپنی مصنوعات کو بہتر طریقے سے پیش کیا جا سکے گا اور مزید آرڈرز ملیں گے۔پاکستانی کمپنیاں جنہوں نے چائنا انٹرنیشنل امپورٹ ایکسپومیں حصہ لیا ہے، انہیں بہت فائدہ ہوا ہے، اور انہوں نے چائنا انٹرنیشنل امپورٹ ایکسپو کو بہت سراہا ہے۔
شے گوشیانگ نے کہا کہ پاکستان کا برآمدی ڈھانچہ نسبتاً مستحکم ہے، اور اس کی برآمدی مصنوعات کو چینی مارکیٹ اور چینی صارفین نے بڑے پیمانے پر تسلیم کیا ہے۔ مثال کے طور پر، کپاس، ٹیکسٹائل، زرعی مصنوعات، معدنی مصنوعات وغیرہ کے ساتھ ساتھ چمڑے کی کچھ مصنوعات اور کھیلوں کا سامان بھی چین میں بہت مقبول ہیں . اس وقت چین پاکستان سے ہر سال تقریباً 300000 ٹن چاول درآمد کرتا ہے جو کہ چاول کی کل درآمدات کا تقریباً 5فیصد ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ چین پاکستان آزاد تجارتی معاہدے کا دوسرا مرحلہ عمل میں آچکا ہے۔دونوں ممالک کے درمیان ٹیرف میں نمایاں کمی آئی ہے اور تجارتی لبرلائزیشن کا معیار کافی بلند ہو گیا ہے۔اس سے پاکستان کو چینی مارکیٹ تک رسائی کے زیادہ مواقع فراہم کئے گئے ہیں، اور پاکستانی اداروں اور لوگوں کو بھی حقیقی فوائد حاصل ہو رہے ہیں۔ایک رپو رٹ کے مطا بق 2014 سے گزشتہ سات سالوں کے دوران چین پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار بن چکا ہے۔ چوتھی چائنا انٹرنیشنل امپورٹ ایکسپو میں 9 پاکستانی کمپنیاں نمائش میں شریک ہو رہی ہیں جو ٹیکسٹائل انڈسٹری اور زرعی مصنوعات کے شعبوں سے تعلق رکھتی ہیں۔ پاکستان کو بطور مہمان خصوصی چوتھی چائنا انٹرنیشنل امپورٹ ایکسپو کی آن لائن قومی نمائش میں شرکت کی دعوت دی گئی۔
Comments are closed.