بیجنگ : چینی صدر شی جن پھنگ نے اقوام متحدہ کے موسمیاتی تبدیلی فریم ورک کنونشن سے متعلق فریقوں کی 26ویں کانفرنس سے اہم خطاب کیا۔انہوں نے نشاندہی کی کہ اس وقت موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات تیزی سے رونما ہو رہے ہیں اور عالمی سطح پر فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ موسمیاتی تبدیلی سے کیسے نمٹا جائے اور عالمی معیشت کی بحالی کو کس طرح فروغ دیا جائے یہ آج درپیش اہم ترین موضوع ہے ۔چینی صدر نے اس حوالے سے تین تجاویز پیش کیں ۔
اول، کثیر الجہتی اتفاق رائے کو برقرار رکھا جائے۔ موسمیاتی تبدیلی جیسے عالمی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے کثیرالجہتی ایک بہترین حل ہے۔ گلاسکو کانفرنس کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے تمام فریقوں کو موجودہ اتفاق رائے کی بنیاد پر باہمی اعتماد اور تعاون کو مضبوط کرنا چاہیے۔
دوم ، عملی اقدامات پر توجہ مرکوز کی جائے کیونکہ عمل کی بدولت ہی وژن حقیقت بن سکتا ہے۔ تمام فریقوں کو اپنے وعدوں پر عمل درآمد کرنا چاہیے، حقیقت پسندانہ اہداف اور وژن وضع کرنا چاہیے، اور قومی حالات کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے اقدامات کے نفاذ کو فروغ دینے کے لیے اپنی بھرپور کوشش کرنی چاہیے۔
سوم ، سبز تبدیلی میں تیزی لائی جائے ۔ سائنسی اور تکنیکی اختراعات کو بروئے کار لاتے ہوئے ہمیں توانائی کے وسائل، صنعتی ڈھانچے، اور کھپت کے ڈھانچے کی تبدیلی اور اپ گریڈنگ کو فروغ دینا چاہیے، سبز معاشی اور سماجی ترقی کو فروغ دینا چاہیے، اور ترقی اور تحفظ میں ہم آہنگی کے لیے نئے طریقے تلاش کرنا چاہیے۔
شی جن پھنگ نے اس بات پر زور دیا کہ چین ماحولیاتی ترجیحات، سبز اور کم کاربن ترقی کے راستے پر گامزن ہے۔ چین توقع کرتا ہے کہ تمام فریق اپنے اقدامات میں تیزی لائیں گے ، موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے مل کر کام کریں گے اور بنی نوع انسان کی مشترکہ کرہ ارض کے تحفظ کے لیے مل کر کام کریں گے۔
Comments are closed.