بارسلونا: سپین میں کورونا وباء کے باعث ملازمتوں سے نکالے گئے افراد کے لئے بے روزگاری فنڈ کی سکیم (ای آر ٹی ای) کی مدت رواں برس کے اختتام تک بڑھائے جانے کا امکان ہے۔حکومت اور تاجر تنظیموں کے درمیان اہم اجلاس 4 ستمبر کو ہوگا۔
سپین کی نائب صدر برائے معاشی و اقتصادی امور نادیہ کیلوینو کی جانب سے انٹینا تھری کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں بتایا گیا کہ کورونا لاک ڈاؤن کے باعث ملازمتوں سے نکالے افراد کی مالی مدد کے لئے شروع کی گئی ای آر ٹی ای (ایرتے) سکیم کے تسلی بخش نتائج ملے ہیں۔
اپنی بات جاری رکھتے ہوئے نادیہ کیلوینو نے کہا کہ عوامی فلاح اور بہتری کے پیش نظر ایرتے اسکیم کی مدت میں توسیع کرتے ہوئے اسے ستمبر سے بھی آگے لے جایا جا سکتا ہے تاہم اس بارے میں حتمی کہنا قبل از وقت ہوگا کیونکہ اگست میں وباء کی صورتحال میں بہتری آئی ہے، لیبرمارکیٹ کے 75 فیصد افراد نے کام شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب سپین کی وزیر محنت یولاندا دیاز کا کہنا ہے کہ تاجر تنظیموں کی جانب سے ای آر ٹی سکیم کی مدت بڑھانے اور ادائیگی 70 فیصد سے کم کر کے 50 فیصد نہ کرنے کی تجویز دی گئی ہے، اس حوالے سے حکومت اور تاجر تنظیموں کے نمائندوں کے درمیان فیصلہ کن اجلاس 4 ستمر کو ہوگا۔
واضح رہے کہ تجارتی سرگرمیاں بحال ہونے کے بعد ملازمتوں پر واپس جانے والے کئی افراد کو غلطی سے ای آر ٹی ای سکیم کے تحت امدادی فنڈز منتقل کر دیئے گئے جب کہ متعدد نے روزگار شروع ہونے کے باوجود یہ فنڈ حاصل کیا، جس پر سپین کے عوامی روزگار کے قومی ادارے ایس ای پی ای (سیپے) نے خبردار کیا ہے کہ ایسی رقوم 30 دن کے اندر اندر واپس کی جائیں ورنہ مجموعی رقم کے ساتھ 20 فیصد جرمانہ بھی وصول کیا جائے گا۔
Comments are closed.