کرسمس کے پیش نظر یورپ میں عائد پابندیوں میں نرمی

یورپ بھر میں کورونا وائرس کے کیس ایک کروڑ 76 لاکھ سے زائد ہوگئے  ہیں جب کہ کورونا سے ہونے والی اموات کی تعداد 4 لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے، اور گذشتہ ایک ہفتے کے دوران بھی ہزاروں نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔گذشتہ روز 120 نئی اموات اور 3 ہزار سے زائد نئے کیسز کے باجود بیلجیم میں 15 جنوری تک  کورونا کے حوالے سے لگائی گئی پابندیاں ختم یا کم کردی گئی ہیں۔

بیلجیئن وزیراعظم نے تمام دکانیں، شاپنگ مالز، ریسٹورنٹس، بارز، میوزیم اور سوئمنگ پولز آج سے کھولنے کا اعلان کیا۔فرانس میں بھی تمام اسٹورز کھل گئے ہیں اور  حکومت نے گذشتہ دنوں لگائی گئی پابندیاں کم کرتے ہوئے ضروری اشیا کے علاوہ بعض دیگر کاروبار کھولنے کی بھی اجازت دے دی ہے تاہم بازار اور ریستوران بدستور بند رہیں گی۔وائرس کے پھیلاؤ میں کمی آنے اور کرسمس کی چھٹیوں کے پیشِ نظر بعض کاروبار کھولنے کی اجازت دی گئی ہے۔

پولینڈ ، جرمنی، نیدر لینڈز ، آئرلینڈ، برطانیہ اور اٹلی میں بھی پابندیوں میں نرمی پر غور کیا جارہا ہے۔جرمنی کے حکام نے جزوی لاک ڈاؤن اگلے سال موسم بہار تک جاری رہنے کا اشارہ دیا ہے تاہم جرمن اراکین پارلیمنٹ ایک مسودے کی تجویز پر غور کر رہے ہیں جس میں زیادہ سے زیادہ 10افرادکو کرسمس اور نیا سال مل کر منانے کی اجازت ہوگی۔

برطانوی حکومت نےبھی کرسمس پر کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے عائد پابندیاں نرم کرنے پر غور شروع کردیا ہے۔ حکومتی مشیر الوک شرما کے مطابق حکومت کرسمس پر وبائی مرض کی روک تھام کے لیے لگائی گئی پابندیوں میں نرمی پر غور کررہی ہے اور ہماری کوشش ہے کہ لوگ کرسمس کی خوشیاں ممکنہ حد تک معمول کے مطابق منائیں۔ہسپانوی حکومت نے پابندیوں میں نرمی کا عندیہ دیایے۔ جبکہ آئرش حکومت نے بھی کرسمس کے لیےلاک ڈاؤن میں نرمی کا ارادہ ظاہرکرتے ہوئے مختلف کاروبارکھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔

Comments are closed.