برطانیہ سے شروع ہونے والاوائرس دنیا کے دیگر 50 ممالک تک پھیل چکا ہے۔ عالمی ادارہ صحت

خبر رساں ادارےاے ایف پی کے مطابق ڈبلیو ایچ او کے مطابق دنیا میں جتنا تیزی سے سارس کوو- 2 وائرس پھیلے گا، اتنے ہی نئے وائرس پیدا ہونے کا امکان ہے۔سارس کوو-2 نامی وائرس کورونا کا سبب بنتا ہے اور عالمی ادارہ صحت کے مطابق مذکورہ وائرس کے بڑے پیمانے پر پھیلنے سے اس بات کے امکانات ہوتے ہیں کہ اس ہی وائرس سے نیا وائرس بھی پیدا ہو۔ برطانیہ اور جنوبی افریقہ میں دریافت ہونے والے نئے وائرسز کی طرح جاپان میں حال ہی میں دریافت ہونے والے تیسرے وائرس کے پھیلنے کا بھی امکان ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق برطانیہ میں پہلی بار 14 دسمبر جب کہ جنوبی افریقہ میں 18 دسمبر 2020 کو نئے کورونا وائرس کی دریافت ہوئی۔اسی طرح جاپان میں تیسرے کورونا وائرس کی دریافت تین دن قبل 11 جنوری کو ہوئی، جس سے متعلق اب عالمی ادارہ صحت نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ وہ تیزی سے پھیل سکتا ہے۔برطانیہ میں دریافت ہونے والے کورونا کے نئے وائرس کو وی یو آئی 202012/01 یا لائنیج بی 117 کا نام دیا گیا تھا جو دراصل دسمبر 2019 میں چین سے شروع ہونے والے وائرس کی تبدیل شدہ شکل ہے۔جنوبی افریقہ میں دریافت ہونے والے وائرس کو 501.V2 کا نام دیا گیا ہے اور یہ بھی پہلے وائرس کی تبدیل شدہ تیزی سے پھیلنے والی شکل ہے۔

تین دن قبل جاپان میں دریافت ہونے والی نئی قسم کو بی 1.1.248 کا نام دیا گیا ہے اور اس میں کم از کم 12 میوٹیشنز موجود ہیں۔ان میں سے ایک میوٹیشن برطانیہ اور جنوبی افریقہ میں دریافت اقسام میں بھی موجود ہے، جس سے خدشہ پیدا ہوتا ہے کہ جاپان میں دریافت قسم بھی ممکنہ طور پر زیادہ متعدی ہوسکتی ہے۔میوٹیشنز ایک ایسے عمل کو کہتے ہیں جو کسی بھی وائرس یا بیماری کو پھیلانے میں مدد فراہم کر سکتا ہے۔عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ جاپان میں ابتدائی طور پر نئی قسم کو 9 جنوری کو نوٹ کیا گیا اور جن افراد میں کورونا کی نئی قسم پائی گئی، وہ لاطینی امریکی ملک برازیل سے سفر کرکے آئے تھے

دنیا میں کورونا کی نئی اقسام دریافت ہونے کے بعد عالمی ادارہ صحت نے 12 جنوری کو دنیا بھر کے 1750 سائنسدانوں اور ماہرین صحت پر مشتمل ایک کانفرنس بھی بلائی، جس میں نئے دریافت ہونے والے وائرسز کی ساخت پر بات کی گئی۔عالمی ادارہ صحت کا کہنا تھا کہ نئی اقسام کی وائرسز دریافت ہونے سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کو وبا کی تشخیص اور اس سے تحفظ کے لیے جدید اور تیز سائنسی انداز سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔

Comments are closed.