برن (سوئٹزرلینڈ): پاکستان تحریک انصاف یورپ کانفرنس میں پارٹی کی ذیلی تنظیم آرگنائزیشن آف انٹرنیشنل چیپٹرز(او آئی سی) کے آئین میں سقم کی نشاندہی کرتے ہوئے ان میں جمہوری تبدیلیوں کو ناگزیر قرار دیا گیا۔
پاکستان تحریک انصاف یورپ کی پانچویں کانفرنس سوئٹزرلینڈ کے شہر برن میں منعقد ہوئی جس میں 11 یورپی ممالک سے تحریک انصاف کے منتخب عہدیداران کے علاوہ پارٹی کارکنان کی بڑی تعداد نے شرکت کی، کانفرنس میں ملکی تشخص کو مزید بہتر انداز میں پیش کرنے سے متعلق امور پر بات کی گئی۔
پی ٹی آئی سوئٹزرلینڈ کے زیراہتمام منعقد ہونے والی تحریک انصاف یورپ کانفرنس میں شرکاءنے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان تحریک انصاف کو قائد عمران خان کے وژن کے مطابق جمہوری پارٹی بنانے کے لیے پارٹی کی ذیلی تنظیم آرگنائزیشن آف انٹرنیشنل چیپٹرز(او آئی سی) کے آئین میں تبدیلیاں انتہائی ناگزیر ہیں۔
تحریک انصاف یورپ کے رہنماؤں کے مطابق تحریک انصاف کی ذیلی تنظیم آرگنائزیشن آف انٹرنیشنل چیپٹرز (او آئی سی) کا موجودہ ڈھانچہ مکمل طور پر غیرجمہوری اور اس کے زیر اثر ڈپٹی سیکرٹری او آئی سی سمیت تمام تعیناتیاں جمہوری اقدار کے خلاف ہیں۔
تحریک انصاف یورپ کے تمام چیپٹرز نے مطالبہ کیا کہ آرگنائزیشن آف انٹرنیشنل چیپٹرز کے آئین اور ذیلی قوانین کو دوبارہ تشکیل دیا جائے اور اس عمل میں یورپ اور دیگر تمام ممالک میں موجود پارٹی عہدیداروں سے مشاورت کو یقینی بنایا جائے۔

تحریک انصاف نیدرلینڈز کے وفد نے بھی کانفرنس میں بھر پورشرکت کی اور اپنا نقطہ نظر پیش کیا۔ نیدر لینڈز سے تحریک انصاف کے صدرعبدالرؤف،جنرل سیکرٹری غلام حسین کیانی،سینئر نائب صدر رضوان منیر، سیکرٹری اطلاعات ڈاکٹرمحمد کامران، زاہد اعوان اور محمد اسد نے کانفرنس میں شرکت کی۔
دیار غیر میں مقیم پاکستانیوں کے مسائل کے حل کے لئے تحریک انصاف کے کارکنوں نے اس بات پر زور مطالبہ کیا کہ اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن (او پی ایف) جیسے اداروں کو مکمل فعال کیا جائے اور ان اداروں کے اندر تارکین وطن کی نمائندگی کو یقینی بنایا جائے۔
اس کے علاوہ اوورسیز پاکستانیز کو پالیسی و قانون ساز اداروں میں مخصوص نشستیں دینے کےلیے قانون سازی بھی کی جائے۔یورپ کے مختلف ممالک سے کانفرنس میں شریک ہونے والے کارکنوں نے تحریک انصاف کو عمران خان کے نظریے کے مطابق ایک مضبوط جمہوری پارٹی بنانے کے لئے جدوجہد جاری رکھنے اور عمران خان کے ساتھ کھڑے رہنے کے عزم کا اظہار کیا۔
کانفرنس کے شرکاء نے تمام مطالبات ایک قرداد کی شکل میں رائے شماری سے منظور کیے اور پارٹی کے اندرونی اور اورسیز پاکستانیوں کے مسائل کے حل کے لئے پارٹی کے مختلف پلیٹ فارمز پر جدوجہد جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔
Comments are closed.