ولادی میر پیوٹن نے 2036 تک صدر رہنے کے قانون پر دستخط کردیے

غیرملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق  نئے قانون کے تحت ولادی میر پیوٹن 2036 تک صدر رہ سکیں گے۔ 68 سالہ روسی صدر پیوٹن 20 سال سے مسلسل برسر اقتدار ہیں۔ گزشتہ سال جولائی میں روس کے عوام نے ولادی میر پوٹن کو 2036 تک کا آئینی صدر منتخب کرلیا تھا۔ ولادی میر پوٹن کے اقتدار کو 2036 تک بڑھانے کے لیے متنازع آئینی ترامیم پر ہونے والے ریفرنڈم میں انہیں 70 فیصد سے زائد ووٹ ملے تھے۔

بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کےمطابق  ووٹنگ میں 73 فیصد افراد نے پیوٹن کو صدارت کے عہدے پر فائز رہنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری ہونے والے حتمی اور سرکاری نتائج میں بتایا گیا تھا کہ ولادی میر پیوٹن 77 فیصد ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔

ولادی میر پیوٹن کے مخالفین نے پولنگ میں بے ضابطگیوں اور ووٹرز پر دباؤ ڈالنے کا الزام عائد کیا تھا۔ مخالفین کا مؤقف تھا کہ صدر پیوٹن نے بڑے پیمانے پر ریاستی مشینری کا استعمال کر کے اپنے حق میں مہم چلوائی، اس کا مقصد وہ اپنے مرضی کے نتائج حاصل کرنا اور اپوزیشن کو مکمل طور پر ختم کرنا چاہتے تھے۔ صدر پیوٹن نے گزشتہ سال جنوری میں قوم سے خطاب کے دوران آئینی ترمیم میں تبدیلیاں کرنے کی تجویز پیش کی تھی جسے اپوزیشن جماعتوں نے مسترد کردیا تھا۔

حکومت نے صدر کی تجویز پر ملک بھر میں ریفرنڈم کروانے کافیصلہ کیا۔ولادی میر پیوٹن نے پارلیمنٹ کے اختیارات وسیع کرنے اور روسی حکومت کی شاخوں میں اقتدار کی تقسیم کی پیش کش کی تھی جس کے بعد ایک تاثر یہ سامنے آیا تھا کہ وہ 2024 میں اپنی صدارتی مدت پوری کرنے کے بعد بھی اقتدار میں رہنے کے خواہش مند ہیں۔خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق دو دہائیوں سے برسر اقتدار رہنے والے صدر پیوٹن سوویت ڈکٹیٹر جوزف اسٹالن کے بعد دوسرے کریملن رہنما ہیں جو ملکی تاریخ میں سب سے طویل عرصے تک اقتدار میں ہیں۔

Comments are closed.