بیجنگ اسٹاک ایکسچینج کا آغاز معاشی سرگرمیوں کا ایک اہم سنگ میل قرار

بیجنگ ( ما نیٹر نگ ڈیسک)بیجنگ اسٹاک ایکسچینج تجارتی سرگرمیوں کے لیے باضابطہ کھول دیا گیا۔اس سے قبل 2 ستمبر کو چینی صدر شی جن پھنگ نے چائنا انٹرنیشنل ٹریڈ ان سروسز سمٹ سے اپنے خطاب میں اس خوشخبری کا اعلان کیا تھا اور صرف دو ماہ میں اسے عملی جامہ پہنایا گیا ہے۔ یہ چائنیز مین لینڈ میں 31 سال کے وقفے کے بعد قائم ہونے والا تیسرا اسٹاک ایکسچینج ہے جبکہ بقیہ فہرست میں شنگھائی اور شینزن مارکیٹس شامل ہیں

بیجنگ اسٹاک ایکسچینج کے پہلے بیچ میں شامل 81 کمپنیوں میں سے تقریباً 70 کمپنیاں جدید مینوفیکچرنگ، جدید سروس انڈسٹریز، اسٹریٹجک ابھرتی ہوئی صنعتوں اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھتی ہیں، جو جدید چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کی مخصوص خصوصیات کی عکاسی کرتی ہیں۔ایس ایم ایز کے لیے خدمات کی فراہمی بیجنگ اسٹاک ایکسچینج کا اصل مقصد ہے۔

چین میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کی تعداد کافی زیادہ ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں سمیت مختلف مارکیٹ اداروں کی تعداد تیزی سے بڑھتے ہوئے 2012 میں 55 ملین سے بڑھ کر رواں سال جولائی کے آخر میں 146 ملین تک پہنچ چکی ہے۔

بیجنگ اسٹاک ایکسچینج کا آغاز بھی چین کے لیے کثیر سطحی کیپٹل مارکیٹ کی تعمیر کے لیے ایک اہم قدم ہے۔ بیجنگ سٹاک ایکسچینج ، کیپٹل مارکیٹ کی طاقت کو جدت اور کاروبار کو مزید فروغ دینے کے لیے استعمال کرے گی۔

 اس سے نہ صرف ایس ایم ایز کی فنانسنگ کے مسائل کو ختم کرنے میں مدد ملے گی اور ان کی مزید ترقی کے لیے ایک راستہ کھلے گا، بلکہ اس سے اپنے کاروبار اور ہنر کی جدت طرازی کی بھی حوصلہ افزائی ہو گی۔

Comments are closed.