لندن: برطانوی پارلیمنٹ میں وزیراعظم تھریسامے کے خلاف تحریک عدم اعتماد ناکام ہوگئی ان کے حق میں 200 اور مخالفت میں 117 ووٹ ڈالے گئے۔
تھریسا مے کے خلاف تحریک عدم اعتماد ان کی جانب سے ایک متنازعہ فیصلے کے بعد پیش کی گئی جس کے تحت برطانیہ اگلے سال مارچ تک یورپی یونین سے باہرنکل جائے گا اور اس فیصلے پر برطانیہ سمیت پورے یورپ میں فکر و مباحثہ جاری ہے۔
تحریک عدم اعتماد کی رائے شماری میں حکمران کنزرویٹو پارٹی کے 317 اراکین نےحصہ لیا، تھریسامے کے حق میں 200 اور مخالفت میں 117 ووٹ ڈالے گئے، اس دوران کنزرویٹرقانون سازوں کی اکثریت نے خفیہ رائے شماری میں ان کی تائید کی ہے جب کہ دلچسپ بات یہ ہے کہ انہی کے 48 ساتھیوں نے خط لکھ کر تھریسا مے کے خلاف رائے شماری کی تجویز بھی دی تھی۔
برطانوی وزیراعظم تھریسامے نے اپنی رہائش گاہ کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت قیادت کی تبدیلی ملک میں بحران پیدا کرنے کے مترادف ہے، اس وقت ملک کسی قسم کی غیر یقینی صورتحال کا متحمل نہیں ہوسکتا، بریگزٹ ڈیل مکمل کرنا چاہتی ہوں لیکن آئندہ انتخابات میں پارٹی کی قیادت نہیں کروں گی۔
واضح رہے تھریسا مے نے جولائی 2016 میں سابق وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کے استغفے کے بعد اقتدار سنبھالا تھا جو عین اسی تنازعے کے شکار ہوکر اقتدار کھو بیٹھے تھے۔
Comments are closed.