واشنگٹن: مذاکرات کے ایجنڈے پر اختلافات کے باعث طالبان نے امریکہ کے ساتھ آج ہونے امن بات چیت منسوخ کر دیئے ہیں۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق افغان حکومت کی مذاکرات میں شمولیت کے علاوہ ممکنہ جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے پر اختلافات سامنے آئے ہیں۔ طالبان نے جنگ بندی سے قبل 25 ہزارقیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
طالبان حکام نے رائٹرز کو بتایا ہے کہ مذاکرات میں کٹھ پتلی افغان حکومت کی شمولیت سے وہ پہلے بھی انکار کر چکے ہیں۔ اور اصل قوت امریکہ کے ساتھ براہ راست مذاکرات کرنا چاہتے ہیں۔ چوتھے دور میں امریکی انخلا، قیدیوں کی رہائی اور طالبان رہنماؤں پر پابندی کے خاتمے پر بات ہونا تھی۔
امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ زلمے خلیل زاد ایشیاء کے دو ہفتوں کے دورے پر ہیں، وہ پاکستان، بھارت، چین اور افغانستان میں علاقائی امن بالخصوص افغانستان کی صورتحال پر بات چیت کریں گے۔ امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ امریکہ امید کرتا ہے کہ جنگ بندی اور امن کے بعد افغانستان دوبارہ دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہوگا۔
Comments are closed.