نئی دہلی: بھارت کی پانچ ریاستوں میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں وزیراعظم نریندرا مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی اپنے مضبوط قلعوں مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ اور راجھستان سے ہار گئی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق مدھیہ پردیش، راجستھان، چھتیس گڑھ، تلنگانہ اور میزورم کی اسمبلی انتخابات مکمل ہوگئے ہیں۔ غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج میں بی جے پی پانچوں ریاست میں شکست کھاگئی۔
ریاست مدھیہ پردیش کی اسمبلی کے لیے انتخاب میں سب سے کانٹے دار مقابلہ جاری ہے، یہاں سب سے زیادہ نشستوں 230 کے لیے بی جے پی 106 نشستوں میں کامیابی کے ساتھ اپنی ساکھ بچانے کی کوششوں میں جُتی ہوئی ہے جب کہ کانگریس 115 نشستوں کے ساتھ بی جے پی کے سامنے مضبوط دیوار کی طرح کھڑی ہے۔ یہاں حکومت بنانے کے لیے دونوں جماعتوں کو دیگر چھوٹی جماعتوں کو ملانا ہوگا۔
ابتدائی نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ بی جے پی راجستھان میں بھی کچھ مزاحمت کرتی نظر آرہی ہے جہاں 199 نشستوں کے لیے مقابلہ ہوا جس میں سے کانگریس 101 نشستیں لے اُڑی جب کہ بی جے پی کے ہاتھ 74 نشستیں آسکیں۔ کانگریس حکومت بنانے کی پوزیشن میں آگئی ہے۔
بی جے پی کو سب سے بڑا دھچکا اپنے مضبوط گڑھ ریاست ’چھتیس گڑھ میں‘ پہنچا جہاں 90 نشستوں پر انتخاب ہوا۔ کانگریس خلاف توقع حکمراں جماعت سے 69 نشستیں چھیننے میں کامیاب رہی جب کہ بی جے پی صرف 11 نشستیں ہی بچا پائی۔ یہاں بھی کانگریس حکومت بنا سکتی ہے۔
تلنگانہ میں مقامی جماعت تلنگانہ راشٹرز سمیتھی نے وفاقی جماعتیں کہلانے والی بی جے پی اور کانگریس کو انتخابی دوڑ میں بہت پیچھے چھوڑ دیا اور 199 میں سے 85 نشستیں جیت کر ریاست کی اسمبلی میں سبقت حاصل کرلی۔ کانگریس 23 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے جب کہ مسلم جماعت ’آل انڈیا مجلس اتحاد مسلمین‘ 6 نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔
میزورم کے انتخابی نتائج کانگریس کے لیے دھچکا ہیں، یہاں کانگریس کی حکومت قائم تھی لیکن آج یہ میدان حیران کن طور پر مقامی جماعت میزو نیشنل فرنٹ کے نام رہا جس نے 40 میں 25 نشستیں حاصل کرکے سبقت حاصل کرلی۔ اس ریاست میں کانگریس کو 6 اور بی جے پی کو صرف 1 نشست ملی۔
Comments are closed.