جنیوا: یورپین کمیشن نے افغانستان کے لیے 474 ملین یورو کے امدادی پیکج کا اعلان کر دیا۔ یہ رقم قومی تعمیر نو، عوامی شعبے کیلئے اصلاحات، صحت، انصاف اور انتخابات کے لئے خرچ ہوگی۔ اس کے علاوہ امدادی پیکج سے مہاجرین اور عارضی طور پر اپنے علاقوں سے نقل مکانی کرنے والے افراد سے متعلق چیلنجز سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔
کمشنر برائے بین الاقوامی تعاون و ترقی نووین ممیکا نے جنیوا کانفرنس برائے افغانستان میں امدادی پیکج کا اعلان کیا اور افغان وزیر خزانہ محمد ہمایوں قیومی کے ساتھ معاہدے پر دستخط کیے۔

attends People on the Move Side Event during Geneva Conference on Afghanistan. 27 November 2018. UN Photo by Violaine Martin
کمشنر ممیکا کا کہنا تھا کہ یورپی یونین افغانستان کے محفوظ مستقبل کی تعمیر کے لئے افغان حکومت کے شانہ بشانہ ہے۔ یورپی یونین کی جانب سے نئے امدادی پیکج سے امن و سلامتی سے متعلق چیلنجلز پر قابو پانے اور مستحکم و اقتصادی طور پر پائیدار معاشرے کی بنیاد رکھنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ باہمی کوششوں سے امداد پر انحصار کم کر کے جمہوری حکومت میں عوامی مفاد کے سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں۔
معاہدے کے مطابق یورپی یونین کی امدادی سے امدادی پیکج میں سے311 ملین یوروز افغان حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے کے لئے مختص کیے گئے ہیں۔ امداد سے عوامی شعبے میں اصلاحات، بدعنوانی کے خاتمے، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور صنفی مساوات اور اندرونی سطح پر آمدنی بڑھانے کے لئے استعمال کی جائے۔ یورپی یونین کے لیے انسانی حقوق، جمہوری اقدار، امن اور صنفی مساوات ترجیحی شعبے ہوں گے۔
اعلامیے کے مطابق امدادی پیکج میں سے 31 ملین یورو قانون و انصاف کے شعبے میں اصلاحات کیلئے مختص کیے گئے ہیں، یہ رقم اٹارنی جنرل آفس اور سوسائٹی کو مزید فعال اور موثر بنانے کے لئے استعمال ہو گی۔ صحت کے شعبے کے لئے 80 ملین یوروز، انتخابی عمل میں معاونت کے لئے 15.5 ملین یورز مہاجرین اور جبری طور پر بے دخل افراد سے متعلق چیلنجز سے نمٹنے کیلئے رکھیں گے۔

Comments are closed.