مسلہ کشمیر کا حل،کشمیری قیادت کا اقوام متحدہ کی قراردادوں کا عملدرآمدکا مطالبہ

 مظفرآباد: مسلہ کشمیر، 5جنوری 1949 میں اقوام متحدہ کے کمیشن برائے پاک و ہند نے قراداد منظور  کی ۔       اس  قرارداد میں کہا  گیا تھاکہ  ریاست جموں و کشمیر کا فیصلہ کشمیری عوام  اپنی  مرضی سے کریں   گے۔

ان خیالات کا اظہار متحدہ جہاد کونسل کے ایک خصوصی اجلاس میں کیا گیا  ۔  اجلاس  کی صدارت  متحدہ جہاد کونسل کے چیئرمین سید صلاح الدین احمد نے کی۔         شرکاء نے  کہا کہ مسلہ کشمیر کے  حل کے لیے حق خود ارادیت کی  قراداد کے باوجود  خطے میں  امن کیلئے  کردار ادا نہیں کیاگیا۔     یوں تب سے لیکر آج تک سوا 5لاکھ سے زائد کشمیری اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرچکے ہیں۔      لاکھوں کشمیری اپنے گھر بار چھوڑ کر ہجرت کرنے پر مجبور کیے گئے۔

بھارتی فوج کا مقبوضہ کشمیر میں ظلم جاری
بھارتی فوج کا مقبوضہ کشمیر میں ظلم جاری

مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارتی افواج کاظلم و تشدد اورقتل و غارت  کی  کا سلسلہ جاری  لیکن کشمیری عوام کی طرف سے جدوجہد آزادی جاری ہے۔  قابض ا فواج  نے  پشتینی باشندوں کو  بے دخل اور ہندووں کو  لاکر بسانے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔

 پانچ لاکھ  سے زائد کشمیری اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرچکے ہیں

اجلاس میں مزید کہا گیا کہ مسلہ کشمیر اقوام متحدہ کی مقبوضہ ریاست جموں کشمیر کے حوالے سے بے حسی خطرناک نتائج کا باعث بن سکتی ہے  ۔     حکمت ودانش کا تقاضہ ہے کہ کشمیری عوام کو استصواب رائے کا آزادانہ اور غیر جانبدارانہ موقع دیا جائے۔      بھارت   جان لےمسلہ کشمیر کے  حل  تک ریاستی عوام اپنی جدوجہد ہر حال میں جاری رکھیں

گے۔

  بعض طالع آزما نام نہاد مذاکرات،عوامی رابطے اور تجارت کے نام پر مسئلہ کشمیر کو پس پشت ڈالنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ کشمیری عوام اپنی قربانیوں کے ساتھ کسی کو کھلواڑکی اجازت نہیں دیں گے۔  اجلاس میں  اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حصول منزل تک جدوجہد آزادی ہر محاذ پر جاری رہے  گی ۔

Comments are closed.