مقبوضہ جموں و کشمیر کی تاریک دن اور جان لیواراتیں

تحریر: محمد شہباز

تاریک دن، مہلک راتیں” کے عنوان سے  دل دہلانے والی رپورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیرمیں بھارتی مظالم کو پھر ایکبار پوری دنیا کے سامنے بے نقاب کیا ہے۔”سیاہ دن، مہلک راتیں” نامی چشم کشا رپورٹ مقبوضہ جموں و کشمیر میں تعینات سفاک بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں بربریت کا شکارکشمیری عوام کی دلخراش شہادتوں پر روشنی ڈالتی ہے ۔”رپورٹ میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں بڑے پیمانے پر جاری انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کو بھی اجاگر کیاگیا ہے ۔ سرینگر میں قائم انسٹی ٹیوٹ آف کشمیر سٹڈیز کی جانب سے مرتب کردہ "تاریک دن، مہلک راتیں” نامی تازہ ترین رپورٹ جس سے لیگل فورم فار کشمیر نے دوبارہ شائع کیا ہے میں مقبوضہ جموں و کشمیرمیں بھارتی فوجیوں کو ان کے جرائم کیلئے حاصل استثنی کی ایک بھیانک تصویر کی منظر کشی ہے۔ نئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کشمیری عوام کو ذلت آمیز سلوک کا نشانہ بنانے کی غرض سے مقبوضہ جموں وکشمیر میں محاصرے،خانہ تلاشیاں اور کریک ڈاون روز کا معمول بن چکے ہیں۔”تاریک دن، مہلک راتیں” مقبوضہ جموں وکشمیر میں درندہ صفت بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں کشمیری خواتین کی آبروریزی کو جنگی ہتھیار کے بطور استعمال کرنے کو نمایاں کرتی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مسئلہ کشمیر پربھارت کی طرف سے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی صریحاخلاف ورزیوں اوراس کی جابرانہ میڈیا پالیسیوں نے کشمیری عوام کے مصائب میں مزید ضافہ کیا ہے۔یہ رپورٹ بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں کشمیری عوام کو پہنچنے والے بڑے پیمانے پر سنگین مصائب کی ایک یاد دہانی ہے۔”سیاہ دن، مہلک راتیں” رپورٹ نے مقبوضہ جموں وکشمیرمیں انسانیت کے خلاف بھارتی جرائم کے ناقابل تردید ثبوت فراہم کیے ہیں۔”سیاہ دن، جان لیوا راتیں” رپورٹ میں دسمبر 1994کے بعد سے بھارتی فوجیوں کو نہتے کشمیریوں کے قتل عام اور انسانی حقوق کی پامالیوں پر حاصل استثنی کی بھیانک منظر کشی کی گئی ہے جنہیں مقبوضہ جموں و کشمیر میں نافذ آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ AFSPA جیسے کالے قوانین کے تحت کشمیری عوام کے ماورائے عدالت اور دوران حراست قتل اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی کھلی چھوٹ حاصل ہے ۔بلاشبہ "سیاہ دن، جان لیوا راتیں”  نامی رپورٹ مقبوضہ جموں و کشمیرمیں تعینات بھارتی فوجیوں کی جانب سے لطف اندوز ہونے والے تشدد اور حاصل استثنی کو روکنے کیلئے بین الاقوامی سطح پر سخت ترین کارروائی کا مطالبہ کرتی ہے۔

رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ خون جما دینے والے ماہ دسمبر 1994میں بھارتی فوجیوں نے 33کشمیریوں کو ماورائے عدالت قتل کیا جن میں 16 معصوم شہری اور ایک سرکاری ملازم بھی شامل تھا۔رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ انسانی حقو ق کی بین الاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے24مارچ 2022 میں کشمیری عوام کے آزادی اظہار، پرامن اجتماعات اور دیگر بنیادی حقوق پر پابندیوں کو اجاگر کیاتھااور بھارتی وزیراعظم مودی کی ظالمانہ پالیسیوں اور کشمیری عوام پر سفاک بھارتی فوجیوں کے مظالم پر شدید تنقید کی تھی ۔ہیومن رائٹس واچ نے مقبوضہ جموں کشمیر میں نافذ کالے قانون آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹAFSPA کی منسوخی کا بھی مطالبہ کیا تھا ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی حکومت نے صحافیوں، سول سوسائٹی کیساتھ وابستہ کارکنوں اور آزادی پسند رہنماوں کے خلاف اپنے کریک ڈائون میں تیزی لائی ہے۔جبکہ بھارتی پولیس صحافیوں کے دفاتر اور رہائش گاہوں پر مسلسل چھاپے ماررہی ہے ۔ پانچ کشمیری صحافی اورانسانی حقوق کے کارکن بشمول خرم پرویز، آصف سلطان ،عرفان معراج، سجاد گل، عبدالاعلی فاضلی اور ماجد حیدری بھارتی جیلوں میں بدستور قید ہیں ۔ رپورٹ میں پیش کئے گئے اعداد و شمار سے مقبوضہ کشمیرمیں نہتے کشمیریوں پر جاری سنگین مظالم کی عکاسی ہوتی ہے ۔ جنوری 1989 سے رواں برس 23 اپریل تک 96ہزار300 سے زائد کشمیری بھارتی فوجیوں کی دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں، جن میں سے 7ہزار333کو دوران حراست یا جعلی مقابلوں میں شہید کیاگیا ہے ۔اس عرصے میں قابض بھارتی فوجیوں نے ایک لاکھ 70ہزار354سے زائد کشمیریوں کو گرفتار ، ایک لاکھ دس ہزار510 سے زیادہ ہائشی مکانات، عمارتیں اور دوسری تعمیرات کو تباہ جبکہ23 ہزار خواتین کو بیوہ اور ایک لاکھ8000 سے زائد بچوں کو یتیمی سے دوچار کیا ہے ۔رپورٹ میں بھارتی فوجیوں کے جس سب سے گھنائونے پہلوکو اجاگر کیاگیا ہے وہ مقبوضہ جموں و کشمیرمیں کشمیری خواتین کی آبروریزی کوایک جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا ہے۔ 1991میں کنن پوش پورہ کپواڑہ میں خواتین کی اجتماعی آبروریزی جیسے سفاکانہ واقعات بھارتی فوجیوں کی مقبوضہ جموں و کشمیر میں بربریت اور درندگی کی واضح مثالیں ہیں۔ بھارتی فوجیوں نے 23فروری 1991میں ضلع کپواڑہ کے دو گائوں کنن اور پوش پورہ میں رات کی تاریکی میں بڑے پیمانے پر محاصرے اور تلاشی  کارروائی کے دوران8 سے 80 برس کی عمر تک کی تقریبا 100 سے زائد خواتین کواجتماعی آبروریزی کا نشانہ بنایا تھا۔ ضلع ڈوڈہ کے  بٹوٹ کے ایک گائوں میں بھارتی وردی پوش درندوں نے ایک خاتون کی اس کے معصوم بچے کے سامنے بحرمتی کی۔

شوپیاں کی آسیہ اور نیلوفر کو کون ذی حس بھول سکتا ہے،جنہیں 29 مئی 2009 میں اپنے ہی باغ سے بھارتی درندوں نے اغوا کرکے انہیں اجتماعی ہوس کا نشانہ بنایا اور پھر دوسرے دن 30 مئی کو ان دونوں نند بھاوج کی لاشیں رنبی نالے سے برآمد کی گئیں۔بھارتی درندوں اور سفاکوں نے بعد ازاں یہ دعوی کیا کہ دونوں کشمیری بچیاں مذکورہ نالے میں ہی ڈوبنے کے باعث جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھیں،حالانکہ رنبی نالے میں پانی کبھی ٹخنوں سے اوپر نہیں گیا۔کئی مہینوں تک اس بربریت کے خلاف اہل شوپیاں نے مجرموں کو پکڑنے اور بے نقاب کرنے کیلئے بھرپور تحریک چلائی ۔مجرم نہ تو بے نقاب اور نہ ہی پکڑے گئے بلکہ الٹا تحریک کے روح رواں شخص بشیر احمد کو قتل کیا گیا۔رسانہ کٹھوعہ کی معصوم 09 سالہ آصفہ کے والدین کس سے انصاف مانگیں کہ جس سے جنگل سے ہندو انتہاپسندوں اور پولیس اہلکاروں نے اس وقت  اغوا کیا جب وہ وہاں اپنے چرواہوں کیساتھ تھیں۔اس معصوم کلی کو ایک مندر میں لے جایا گیا ،جہاں اس سے پہلے بہوش کردینے والی دوائی کھلائی گئی اور پھر کئی روز تک اس کی اجتماعی آبرویزی کی جاتی رہی اور پھر آخر میں اس کا سر پتھروں سے کچل کر قتل کیا گیا۔کس کا ذکر کیا جائے اور کس کس کو بھلادیا جائے۔بھارتی درندوں نے اہل کشمیر کا سفاکانہ قتل عام کرنے کے علاوہ مقبوضہ کشمیر کی عفت مآب خواتین کی دامن عصمت تار تار کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کی اور اس بربریت کی انجام دہی کیلئے بھارتی حکمرانوں نے ان کیلئے ایک ایسی حفاظتی دیوار کا بندو بست کیا جس کے ہوتے ہوئے انہیں نہ تو کسی عدالتی کٹہرے میں کھڑا کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی کسی منصف میں ان درندوں کا احتساب کرنے کی اجازت اور ہمت وطاقت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ بھارتی درندے جرائم کے باوجود دندناتے پھر رہے ہیں۔مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں رونما ہونے والے سنگین اور بدترین واقعات چیخ چیخ کر عالمی امن کے ٹھیکداروں اور انسانی حقوق کے علمبرداروں کی توجہ اپنی جانب مبذول اور ان کی  آنکھیں کھولنے کیلئے کافی ہیں کہ بہت ہوگئی ہے کہ اب بھارت کا دست قاتل نہ صرف روکا جائے بلکہ اس سے لگام دی جائے۔کیونکہ ظلم و جبر اور طاقت کا استعمال مہذب معاشروں میں کسی صورت قابل قبول نہیں ہے۔جس کی عملی تصویر پوری دنیا میں اہل فلسطین کے خلاف اسرائیلی درندگی اور بربریت پر احتجاج اور مظاہرے ہیں۔

 انسٹی ٹیوٹ آف کشمیر سٹڈیز کی جانب سے مرتب کردہ "تاریک دن، مہلک راتیں” نامی تازہ ترین رپورٹ تازہ ہوا کا ایک جھونکا ہے اور یہ بھارت اوراس کی ظالم افواج کو آج نہیں تو کل انصاف کے کٹہرے میں لانے کا یقینا باعث بنے گی۔05اگست 2019 میں مقبوضہ جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کے بعد نہ صرف اہل کشمیر کو ان کی جدی پستی زمین و جائیداد اور رہائشی مکانات سے محروم کرنے کا خوفناک سلسلہ جاری ہے بلکہ ریاست کی مسلم شناخت کو مٹانے کے نت نئے منصوبے آزمائے جاررہے ہیں۔مسلمان کشمیری ملازمین کو ان کی نوکریوں سے بغیر کسی وجہ اور جواز کے برخاست کیا جاتا ہے اور پھر انہیں اپنا موقف پیش یا بیان بھی نہیں کرنے دیا جاتا ہے۔صرف اپریل 2021سے اب تک مقبوضہ جموں و کشمیر میں تقریبا 60 مسلم کشمیری ملازمین کو بھارتی سالمیت کیلئے خطرہ قراردیکر ان کی نوکریوں سے برطرف کیا جاچکا ہے ۔پوری آزادی پسند قیادت سمیت ہزاروں کشمیری نوجوان اور بزرگ گرفتار کرکے مقبوضہ جموں و کشمیر  اور بھارت کی دور دراز جیلوں میں مقید کرکے انہیں تمام بنیادی سہولیات اور انسانی حقوق سے محروم کیا گیا ہے۔حتی کہ کشمیری خواتین کو بھی نہیں بخشا گیا ۔آسیہ انداربی سمیت درجنوں کشمیری خواتین  گرفتار کرکے بدنام زمانہ تہاڑ جیل دہلی میں چھوٹے چھوٹے سیلوں میں قید کی جاچکی ہیں۔جس کامقصد انہیں تحریک آزادی کشمیر کیساتھ وابستگی کی سزا دینا اور انہیں اس تحریک سے دستبردار کرانا ہے ،جس میں لاکھوں لوگ 1947سے بالعموم اور 1989 سے باالخصوص اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرچکے ہیں۔ایسے میں مقبوضہ جموں وکشمیرمیں بھارتی جنگی جرائم پر دنیا کو خاموش تماشائی نہیں رہنا چاہیے ۔مودی اور اس کے حواریوں کے خلاف بین الاقوامی فوجداری عدالت میں کارروائی کرکے انہیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ساتھ ہی یہ بات یقینی بنائی جائے کہ اہل کشمیر کیساتھ عالمی ایوانوں میں کیے گئے وعدوں کو عملی جامہ پہنا کر اہل کشمیر کو حق خودارادیت فراہم کیا جائے تاکہ وہ بھی آزاد فضائوں میں سانس لے سکیں۔

Comments are closed.