نیب مقدمہ مفروضہ ہے، این آراو لینے والا جیل نہیں جاتا، نوازشریف

اسلام آباد: سابق وزیراعظم نواز شریف نے العزیزیہ ریفرنس میں بیان قلمبند کراتے ہوئے کہا ہے کہ وہ مطمئن ہیں ساری نسلیں کھنگالنےکے بعد بھی کوئی کرپشن کا ثبوت نہیں ملا ، نیب کا  مقدمہ مفروضوں پر مبنی تھا ، مفروضوں کے ثبوت نہیں ہوتے۔ انہوں نے این آر او کی باتوں کو بھی بے بنیاد قرار دیا ۔

نواز شریف نے بیان میں کہا استغاثہ یہ ثابت نہیں کر سکا کہ حسن اور حسین نواز میرے زیرکفالت اور بےنامی دار تھے، جے آئی ٹی رپورٹ میں غلط طریقے سے مجھے العزیزیہ اور ہل میٹل کا مالک ظاہر کیا گیا، اس کا کوئی ثبوت نہیں دیا گیا ، سپریم کورٹ کا معزز بینچ بھی جے آئی ٹی کی رپورٹ سے مکمل مطمئن نہیں تھا ، واجد ضیا اور تفتیشی افسر کے سوا کسی گواہ نے میرے خلاف بیان نہیں دیا ، جج صاحب ! آپ سے بہتر کون جانتا ہے کہ آمدن سے زائد اثاثوں کا الزام اس وقت لگایا جاتا ہے جب کرپشن کا ثبوت نہ ملے ۔ انہوں نے جنرل یحییٰ کی اتفاق فاؤنڈری کے دورہ کی اپنے ساتھ تصویر عدالت میں پیش کی اور اسے ریکارڈ کا حصے بنانے کی استدعا کی ۔

مسلم لیگ ن کےقائد نےمیڈیاسےغیررسمی گفتگومیں کہااین آراو کی باتیں مفروضوں پر مبنی ہیں ، این آر او کرنے والا لندن سے آ کر جیل نہیں جاتا ، میں اکیلا نہیں بیٹی کے ساتھ جیل گیا ہوں ، صحافی کے اس سوال پر کہ ایون فیلڈ ریفرنس کے برعکس العزیزیہ ریفرنس کے بیان میں سول ملٹری تناؤ کا ذکر نہیں ۔ نوازشریف نے جواب دیا کہ وہ وقت اور تھا ، یہ وقت اور ہے

Comments are closed.