اسلام آباد: چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے کہ بدقسمتی سے کسی ادارے سے اچھی خبریں نہیں آ رہیں،معشیت، پارلیمان سمیت کھیل کے میدانوں سے تکلیف دہ خبریں اور شور شرابہ سننے کو مل رہا ہے،صرف عدلیہ کا شعبہ ایسا ہے جہاں سے اچھی خبریں آ رہی ہیں،ان کا کہنا ہے کہ اللہ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے،ججز کو اللہ کی محبت مل جائے تو کوئی خوف یا ڈر ہو گا۔
فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی میں ماڈل کورٹس کے ججز سے خطاب میں چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ عدلیہ نے کچھ ہی عرصے میں 1994 سے زیرالتوا مقدمات نمٹائے،سپریم کورٹ میں زیرالتوا فوجداریء مقدمات کی تعداد ایک سو سے بھی کم رہ گئی ہے، چھ ہفتوں میں یہ مقدمات بھی ختم ہو جائیں گے، زیر التوا مقدمات ختم ہونے سے زنجیر عدل ہوگی جسے کوئی بھی سائل ہلائے گا تو ججز فوری بیٹھیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہائی کورٹس کی سطح پر خصوصی بینچز بنائے جا رہے ہیں جو ماڈل کورٹس کی اپیلوں پر سماعت کریں گے،ان کا کہنا تھا کہ تمام عدالتی فیصلے آرٹیفیشل انٹیلی جنس سسٹیم میں فیڈ کریں گے جو مقدمات کے حقائق کے مطابق فیصلے کرنے میں مدد کریں گے۔
آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کا اجلاس 24 جون کو ہو گا، فیملی کرایہ داری سول اور مجسٹریٹ ماڈل کورٹس کا بھی آغاذ کرنے جا رہے ہیں اس کے علاوہ ملک بھر میں 116 جینڈر بیس کورٹس بھی قائم کر رہے ہیں۔
Comments are closed.