چینی اسکینڈل کا فرانزک آڈٹ مکمل،ٹیکسوں کی مد میں اربوں روپے کے فراڈ کا انکشاف

مانیٹرنگ دیسک

مقامی میڈیا کے مطابق ایف آئی اے کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اسکینڈل کی تحقیقات میں پہلی بار فرانزک اڈٹ کروایا گیاہے جس میں بڑے بڑے انکشافات سامنے آئے ہیں، شوگر مافیا کا تعلق تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے ساتھ ہے، شوگر مافیا آج تک پالیسی ہی نہیں بنانے دی ہے

اسٹیٹ بینک اور مسابقتی کمیشن سمیت دیگر ادارے بھی ملوث ہیں، تحقیقات شروع ہوئی تو سب ایک ہوگئے، تحقیقاتی کمیشن کے کئی افسران کو سنگین نتائج کی دھمکیوں کے ساتھ ساتھ کروڑوں روپے کی پیشکش بھی کی گئی

ذرائع کا کہنا ہے کہ شوگر مافیا کسانوں کا استحصال بھی کرتے ہیں، کسانوں سے گنا خریدنے کے بعد کئی کئی سال اربوں روپے کی ادائیگی نہیں کرتے، جس کی وجہ سے کسان مجبوری میں گنا فروخت کرتے ہیں۔

ایف آئی اے ذرائع کا کہنا ہے کہ چینی بنانے کےعمل سے نکلنے والے بگاس پھوک شیرا، مولاسیسز اور گار کو فروخت کر کے اربوں روپے کمائے جاتے ہیں، گنے سے چینی کے علاوہ دیگر بننے والی مصنوعات کو بیرون ممالک بھی فروخت کیا جاتا رہا ہے،

شوگر مل مالکان نے بھی چینی بنانے کے ساتھ ساتھ اس عمل کے دوران گنے سے بننے والی دیگر مصنوعات سے اربوں روپے کمائے لیکن ان اشیاء کی فروخت کا اکثر شوگر مل مالکان ریکارڈ ہی نہیں رکھتے، ان اشیاء کی فروخت پر ٹیکسوں کی مد میں اربوں کا فراڈ کیا جاتا ہے،فرانزک اڈٹ کے دوران شوگر مل مالکان کی جانب سے مختلف بینکوں میں ٹرپل اینٹریز بھی کی گئی جو ٹیکس چوری کی وجہ بنی

ذرائع کے مطابق شوگر مافیا تمام اخراجات نکال کر بھی فی کلو 10 سے 15 روپے کماتے ہیں،

Comments are closed.