اے ایف پی کے مطابق ایک افغان صحافی اور انسانی حقوق کے کارکن کو مغربی افغانستان میں نامعلوم مسلح افراد نے گولی مار کر ہلاک کیاگیاہے۔بسم اللہ عادل کو صوبائی دارالحکومت فیروز کوہ کے قریب مسلح افراد نے نشانہ بنایا۔ان کا کہنا تھا کہ وہ قریبی گاؤں میں اپنے اہل خانہ سے ملنے کے بعد گھر لوٹ رہے تھے جب ان کی گاڑی پر فائرنگ کردی گئی۔صوبائی ترجمان عارف کے مطابق بسم اللہ عادل کے ہمراہ ان کے بھائی اور دیگر دیگر افراد زخمی ہوگئے۔
مقامی میڈیا کے مطابق مقتول صحافی مقامی ریڈیو سدا غور اسٹیشن کے سربراہ کی حیثیت سے کام کرتے تھے اور وہ صوبے میں انسانی حقوق کے کارکن بھی تھے۔کسی گروپ یا گروہ نے فوری طور پر قاتلانہ حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
گزشتہ دو ماہ کے دوران افغانستان میں مارا جانے والا پانچواں صحافی ہے۔افغانستان کے مشرقی صوبے ننگرہار میں قاتلانہ حملے میں خاتون صحافی اور ان کا ڈرائیور ہلاک ہوگئے تھے۔نومبر میں دو صحافی الگ الگ بم دھماکوں میں ہلاک ہوگئے تھے۔رپورٹرز وِد آؤٹ بارڈرز (آر ایس ایف) کے مطابق 2020 میں 50 صحافی اور میڈیا کارکنوں کو ان کے کام کی بنیاد پر قتل کیا گیا۔
Comments are closed.