پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین اور بانی عمران خان کی ہدایت پر پارٹی اراکین اسمبلی نے پارلیمانی کمیٹیوں سے مستعفی ہونے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ اسی سلسلے میں علی محمد خان اور عادل بازئی نے اپنی اپنی قائمہ کمیٹیوں کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا۔
علی محمد خان کا استعفیٰ
پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی علی محمد خان، جو کہ ایک سرگرم سیاسی رہنما اور سابق وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور بھی رہ چکے ہیں، نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق اور قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور سے استعفیٰ دے دیا۔ انہوں نے اپنا استعفیٰ اسپیکر آفس میں جمع کراتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ وہ پارٹی چیئرمین عمران خان کی ہدایات پر یہ قدم اٹھا رہے ہیں۔
عادل بازئی کا استعفیٰ
دوسری جانب رکن قومی اسمبلی عادل بازئی، جو تخفیف غربت اور اوورسیز پاکستانی اینڈ ہیومن ڈویلپمنٹ کمیٹی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن کمیٹی کے ممبر تھے، نے بھی اپنی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا۔ انہوں نے سپیکر قومی اسمبلی کو بھیجے گئے اپنے استعفے میں واضح کیا کہ یہ فیصلہ عمران خان کے احکامات پر کیا گیا ہے۔
سیاسی تجزیہ
سیاسی ماہرین کے مطابق پی ٹی آئی کی یہ حکمت عملی حکومت اور پارلیمنٹ پر دباؤ بڑھانے کی کوشش ہے۔ پارٹی کا مقصد یہ تاثر دینا ہے کہ وہ موجودہ پارلیمانی نظام میں سرگرم حصہ لینے کے بجائے عمران خان کی سیاسی حکمت عملی کے تحت اجتماعی فیصلوں کو ترجیح دے رہی ہے۔ اس سے یہ بھی واضح ہو رہا ہے کہ پی ٹی آئی قیادت اپنے کارکنان اور عوام کو یہ پیغام دینا چاہتی ہے کہ پارٹی قیادت کے فیصلے سب پر مقدم ہیں۔
آئندہ لائحہ عمل
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں پی ٹی آئی کے دیگر ارکان بھی عمران خان کی ہدایات پر اپنی کمیٹیوں سے استعفیٰ دے سکتے ہیں، جس سے پارلیمانی کمیٹیوں کا کام متاثر ہوگا۔ تاہم حکومت کی جانب سے اس پیش رفت پر باضابطہ ردعمل سامنے آنا ابھی باقی ہے۔
Comments are closed.