لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے شوہر کے قتل کے مقدمے میں سزائے موت پانے والی خاتون اور اس کے آشنا کو بری کر دیا۔ عدالت نے شک کا فائدہ دیتے ہوئے دونوں ملزمان کی اپیلیں منظور کر لیں اور ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے رہائی کا حکم جاری کر دیا۔
ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چودھری اور جسٹس سردار اکبر ڈوگر پر مشتمل بینچ نے تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ استغاثہ مقدمے میں ٹھوس شواہد پیش کرنے میں ناکام رہا، جس کے باعث ملزمان کو بری کر دیا گیا۔
پراسیکیوشن کی کہانی اور عدالتی فیصلہ
کیس کے مدعی نے موقف اختیار کیا تھا کہ مقتول منیر احمد کی اہلیہ حنا کے ملزم دلاور کے ساتھ ناجائز تعلقات تھے، جبکہ مقتول اپنی بیوی کو دلاور سے ملنے سے منع کرتا تھا۔
پراسیکیوشن کے مطابق، مقتول کی اہلیہ اور دلاور شادی کی ایک تقریب میں گئے جہاں سے منیر احمد واپس نہ آیا۔ بعد ازاں، تلاش کے دوران اس کی لاش برآمد ہوئی۔ پراسیکیوشن کا دعویٰ تھا کہ ملزمان نے دو نامعلوم افراد کے ساتھ مل کر مقتول کو قتل کیا۔ تاہم، عدالت نے قرار دیا کہ موقع پر کوئی گواہ موجود نہیں تھا اور پراسیکیوشن اپنا کیس ثابت کرنے میں ناکام رہی۔
شک کا فائدہ ملزمان کو
عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ اعلیٰ عدلیہ کے اصولوں کے مطابق، اگر کیس میں شک پایا جائے تو اس کا فائدہ ملزم کو دیا جاتا ہے۔ اسی بنیاد پر، لاہور ہائیکورٹ نے 2021 میں ٹرائل کورٹ کی جانب سے دیا گیا سزائے موت کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے ملزمان کی رہائی کا حکم دے دیا۔
کیس کی تفصیلات
یہ کیس 2019 میں تھانہ سرگودھا پولیس نے درج کیا تھا، جس میں مقتول منیر احمد کے قتل کا مقدمہ درج ہوا تھا۔ ٹرائل کورٹ نے 2021 میں سزائے موت سنائی تھی، جسے لاہور ہائیکورٹ نے اب کالعدم قرار دے دیا ہے۔
Comments are closed.