بنگلہ دیش میں جنسی زیادتی کے مجرم کو سزائے موت دینے کا قانون نافذ

مانیٹرنگ ڈیسک

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق بنگلہ دیش کی حکومت نے ملک میں ’ریپ‘ کے بڑھتے ہوئے کیسز پر ہونے والے ملک گیر مظاہروں کے بعد قوانین میں ترمیم کرکے مجرمان کے لیے سزائے موت کا سخت قانون نافذ کردیا۔ بنگلہ دیش کی کابینہ نے 12 اکتوبر کو ہنگامی بنیادوں پر ’ریپ‘ قوانین میں ترمیم کی منظوری دی۔

بنگلہ دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد نے کی، جنہوں نے ملک میں بڑھتے ’ریپ‘ واقعات پر تشویش کا اظہار بھی کیا۔حکومت نے ’ریپ‘ قوانین میں ہنگامی بنیادوں پر ترامیم کرکے ان کی منظوری دی اور قوانین کی روشنی میں 13 اکتوبر کو صدارتی آرڈیننس بھی جاری کردیا گیا۔

ملک گیر مظاہروں کے پیش نظر حکومت نے ہنگامی بنیادوں پر قوانین نافذ کیے۔ملک گیر ہونے والے مظاہروں میں حکومت پر ’ریپ‘ ملزمان کو سیاسی پشت پناہی دیے جانے کے الزامات بھی لگائے گئے۔حکومت پر مذکورہ الزامات گزشتہ ماہ اس وقت لگائے گئے جب ایک خاتون کو اغوا کے بعد گینگ ریپ کا نشانہ بنایا گیا تھا اور مذکورہ گینگ ریپ میں ملوث افراد کا تعلق حکمران جماعت کی طلبہ تنظیم سے تھا۔

اعدادو شمار کے مطابق ملک بھر میں جنوری سے لے کر ستمبر تک 975 خواتین کا ریپ کیا گیا۔ رجسٹرڈ ہونے والے مذکورہ واقعات میں سے 208 واقعات گینگ ریپ کے ہیں جب کہ 45 واقعات میں خواتین کو ریپ اور استحصال کے بعد قتل کیا گیا۔اسی طرح ریپ اور استحصال کا نشانہ بننے والی 12 خواتین نے خودکشی کی

Comments are closed.