ججز سے بہتر فیصلے کی امید ہے، مخصوص نشستیں قانون کے مطابق ہمیں ملیں گی: بیرسٹر علی گوہر

سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 51 کے مطابق کسی بھی سیاسی جماعت کو زیادہ سے زیادہ وہ مخصوص نشستیں مل سکتی ہیں جو اس کی جیتی ہوئی سیٹوں کے مطابق ہو، کسی بھی جماعت کو جیتی ہوئی نشستوں سے زیادہ سیٹیں دینا غیر متناسب ہے۔

رہنما تحریک انصاف نے کہا کہ ہمارا حق تھا ریزرو سیٹیں ہمیں ملیں، 67خواتین اور 11سیٹیں اقلیتوں کی ہیں جو ہمیں نہیں دی گئیں، ہمیں سپریم کورٹ سے بہت امید ہے، آج کہا جاتا ہے سنی اتحاد کونسل نے کوئی سیٹ جیتی ہے یا نہیں، حامد رضا کے پیپر پر بھی سنی اتحاد کونسل لکھا ہوا تھا، پی ٹی آئی سے الائنس کی صورت میں آزاد امیدوار کے طور پر نشان الاٹ کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے سخت حالات میں دسمبر میں اپنے تمام امیدواروں کے کاغذات نامزدگی جمع کروائے، پاکستان کے 859 حلقوں میں ہم نے 828 کو ٹکٹس دیئے، عورتوں کے لیے بھی ترجیحی لسٹ جاری کی گئی تھی، ان کو کہا گیا تھا کہ کاغذات فائل کریں، اس کی سکروٹنی بھی ہونی مگر بد نیتی پر الیکشن کمیشن نے خواتین کی سکروٹنی 29 تاریخ تک نہیں کی۔

بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ اس کے بجائے 29 کو الیکشن کمیشن نے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا کہ ہم ان سب کی سکروٹنی 13 جنوری کو کریں گے، اسی دن سپریم کورٹ کا فیصلہ رات 11 بجے آیا مگر اس سے پہلے الیکشن کمیشن نے امیدواروں کو آزاد نشانات الاٹ کردیئے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ سیٹیں ہم جیت کر آئے تو ہمارے امیدواروں نے سنی اتحاد میں شمولیت اختیار کی، ہم نے 780 پیج کے کاغذات فائل کیے الیکشن کمیشن میں اور کمیشن نے اسے مانا بھی، اس کے باوجود کے ہمارا حق تھا کہ ہمیں مخصوص نشتیں ملتی، ہمیں وہ نہیں دی گئیں، ہم اس وجہ سے سپریم کورٹ میں موجود ہیں، انہی کی وجہ سے سینیٹ الیکشن خیبرپختوا میں نہیں ہوئے، ہمیں سپریم کورٹ کے ججز سے امید ہے، خوشی ہوتی کہ اگر آج ہی آرڈر آجاتا، امید ہے 2،3 دن میں فیصلہ سنا دیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ آج سینیٹ بھی نامکمل ہے، سینیٹ کے الیکشن ان ریزرو سیٹوں کی وجہ سے آج تک کے پی میں نہیں ہوئے، ہمیں سپریم کورٹ کے 13ججز سے بہت امید ہے۔

Comments are closed.